بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی صدر کے دعوے کھوکھلے نکلے ، کشمیر سے متعلق بیان پر ٹرمپ  نے کونسی روش اختیار کر لی ؟ امریکی اخبار نے بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2019 |

نیو یارک (این این آئی) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات جمہوریت کے خلاف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کے حل کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔امریکی اخبار میں شائع اداریہ میں کہا گیا ہے کہ دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیرمیں کریک ڈاؤن جاری ہے ، سینکڑوں سیاست دان، ادیب، دانشور اور سماجی کارکن بھارت کی

قید میں ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کا مزید کہنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے ٹارچر اور جبری حراست کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں، 13 سال تک کے بچوں کو بھی بھارتی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔اْدھر امریکی اخبار نے 13 گاؤں کے 19 افراد سے گفتگو کی جنہوں نے بھیانک ٹارچر کی داستان سنائی، کشمیر کے مکینوں کو راڈ، ڈنڈوں اور تاروں سے مارا گیا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے کشمیریوں کو بجلی کے جھٹکے دئے، الٹا بھی لٹکایا، مودی سرکار بین الاقوامی میڈیا اور امریکی سینیٹرزکو مقبوضہ وادی نہیں جانے دیتی، بد قسمتی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مقبوضہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔امریکی اخبار میں مزید لکھا کہ بھارت فخر محسوس کرتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، لیکن اس طرح کی حرکتیں جمہوری حکومتوں میں نہیں ہوتیں، وادی میں بہت سارے لوگوں کو بناء  کسی چارجز کے گرفتار کیا ہوا ہے اور ان پر تشدد بھی کیا ہے۔بھارتی عدالتی کارروائی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ ہندوستانی سپریم کورٹ سمیت ماتحت عدالتیں مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر کوئی کارروائی سے گریزاں ہے اور معاملات کو تاخیر کی طرف لے جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…