بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

 عدالتی تاریخ کا انوکھا واقعہ،جج نے بھری عدالت میں قتل کے مقدمے کافیصلہ سنانے کے بعد خود کو گولی مار لی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2019 |

بینکاک(آن لائن) تھائی لینڈ کی عدالت میں تاریخ کا انوکھا واقعہ رونما ہوگیا، جج نے بھری عدالت میں قتل کے مقدمے کے فیصلہ سنانے کے بعد خود کو گولی مار لی۔ تھائی جج نے قتل اور فیس بک کی لائیو ویڈیو میں سلطنت کے عدالتی نظام کی برائی کرنے کے کیس میں کئی ملزمان کو بری کرنے کے فیصلہ سنانے کے بعد خود کو سینے میں گولی ماری۔ناقدین کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کی عدالتیں اکثر امیروں اور طاقتور افراد کے حق میں فیصلے سناتی ہیں،

جبکہ عام آدمی کو معمولی جرم میں بھی جلد اور سخت سزائیں سنائی جاتی ہیں۔تاہم کسی جج کے منہ سے آج تک عدالتی نظام پر تنقید سننے میں نہیں آئی۔یالا شہر کی عدالت کے جج کاناکورن پیانچانا پانچ مسلم ملزمان کے خلاف قتل کے کیس کی سماعت کر رہے تھے۔انہوں نے قتل کرنے والے گروپ کے ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا اور اس کے بعد پستول نکال کر خود کو سینے میں گولی مار لی۔قبل ازیں عدالت میں ریمارکس اور فیس بک لائیو پر اپنے الفاظ نشر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی کو سزا سنانے کے لیے آپ کو شفاف اور ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا اگر آپ کو یقین نہ ہو تو کسی کو سزا نہیں دینی چاہیے۔’انہوں نے کہا کہ ‘میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پانچوں ملزمان نے کوئی جرم نہیں کیا، انہوں نے شاید کیا ہو لیکن عدالتی نظام کو شفاف اور قابل اعتبار ہونے کی ضرورت ہے اور بے گناہوں کو سزا دینا انہیں قربانی کا بکرا بنانا ہے۔’اس کے بعد فیس بک لائیو ویڈیو ختم ہوگئی تاہم عینی شاہدین نے کہا کہ جج نے سابق تھائی بادشاہ کی تصویر کے سامنے آئینی حلف کے الفاظ دہرائے اور پھر خود کو گولی مار لی۔عدالتی دفتر کے ترجمان نے بتایا کہ ‘ڈاکٹرز جج کا علاج کر رہے ہیں اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘جج نے ذاتی دباؤ کی وجہ سے خود کو گولی ماری تاہم اس دباؤ کی وجہ فی الوقت واضح نہیں جس کی تحقیقات کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…