جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کی تقریر سے حوصلہ ملا، بھارت نوازمحبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے بھارتی حکومت کو ہی کھری کھری سنا دیں

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

سری نگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیراعلی محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے کہاہے کہ وزیراعظم پاکستان کی حالیہ تقریر سے کشمیریوں کو حوصلہ ملا اور تقریر کے بعد کشمیریوں نے سڑکوں پر آ کر نعرے بازی کی۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹریو دیتے ہوئے التجا مفتی کا کہنا تھا کہ آج کشمیری سوچ رہے ہیں کہ بٹوارئے کے وقت ہم جس بھارت کے ساتھ منسلک ہوئے وہ اب سیکولر نہیں رہا تو کیا

ہماری قیادت کا فیصلہ درست تھا جب کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں ہماری لیے بات کی جو کشمیریوں کو اچھا لگا اور انہیں حوصلہ ملا، اس وقت کشمیر میں نوجوانوں میں بہت زیادہ انڈیا مخالف جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔التجا مفتی کا کہنا تھا کہ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں ترقی کی بات کرتے ہیں تو انھوں نے ریاست کے حصے کیوں کیے؟ یہ کشمیریوں سے اختیارات لینا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کو مزہ چکھا کر رہیں گے اور مکمل طور پر کشمیریوں سے اختیارات لے لیں گے۔ایک سوال کے جواب میں التجا مفتی نے بھارت کا یہ موقف رد کردیا کہ آرٹیکل 370 کشمیر کی ترقی کے لیے کیا گیا، انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور ترقی کا آپس میں کوئی لینا دینا نہیں ہے، بھارت جو دکھانا چاہ رہا ہے کہ کشمیری پرامن نہیں ہیں اور ترقی کے لیے یہ سب کیا گیا وہ غلط ہے، اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے کیا یہاں کہ لوگوں کا حق نہیں بنتا کہ ان سے مشاورت کر کے فیصلہ کیا جائے۔التجا مفتی نے کہا کہ انٹرنیٹ بند کرنے کا یہ جواز درست نہیں ہے یہ چاہتے نہیں کہ کشمیر سے کوئی آواز اٹھے، ایک دفعہ انٹرنیٹ آجائے گا تو لوگ بتا سکیں گے کہ ان دو ماہ انھیں کیسے قید میں رکھا گیا البتہ مودی حکومت دنیا بھر میں کوئی نہ کوئی جواز پیش کرنا چاہتے ہیں اس لیے یہ ترقی کی بات کررہے ہیں، ورنہ بھارت کو اب تک کس نے روک رکھا تھا اور جموں اور کشمیر میں ترقیاتی پیمانے جیسے شرحِ خواندگی، یا غربت دیکھیں، ریاست بہار سے لوگ یہاں مزدوری کے لیے آتے ہیں کیونکہ یہاں انھیں بہتر اجرت ملتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…