جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ مودی کی تعریف کرتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں، یا پھر طنز کے تیر برساتے ہیں؟بھارتی میڈیا سمجھ گیا، نیا پنڈوراباکس کھول دیا، عمران خان سے کیوں جلن ہونے لگی؟

datetime 26  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) نریندر مودی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والے جنونی ہندوئوں کے ترجمان میڈیا کو بھی اچانک اپنے وزیراعظم کی عالمی سطح پر ہونے والی بھرپور بے عزتی کا احسا س پوری شدت سے ہوگیا ہے جس کے بعد ملک کے طول وعرض میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے مودی کی تعریف کرتے ہیں؟ مذاق اڑاتے ہیں؟ اور یا پھر طنز کے تیر برساتے ہیں؟بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر نے گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی اتنے مقبول ہیں جیسے امریکہ کے معروف گلوکار اور اداکار ایلوس ایرون پریسلے تھے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ دو ماہ میں دوسرے مرتبہ ایسی مثال دی ہے جس کی وجہ سے ان کی نیت پر شک ہونے لگا ہے کیونکہ اگر وہ ابراہم لنکن یا کینیڈی سے تشبیہہ دیتے تو بھارت کو اچھا لگتا۔بھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنی وزارت خارجہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس بات کا فوری طور پر نوٹس لے اورامریکی انتظامیہ تک یہ بات پہنچائی جائے تاکہ کسی اور ملک کا سربراہ ایسی ہمت نہ کرے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کسی بھی ملک کے سربراہ کا موازنہ کسی اداکاریا گلوکار سے کرنا مناسب نہیں ہے۔بھارتی خبررساں ایجنسی کے مطابق 26 اگست 2019 کو بھی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نریندر مودی کے جواب نہ دینے پر کہا تھا کہ حقیقت میں ان کی انگریزی بہت اچھی ہے لیکن وہ اس وقت بات کرنا نہیں چاہتے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے اس طرح کے عمل کو کسی بھی طرح دوستی کا نام نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ دو ممالک کے تعلقات میں سربراہان کی دوستی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی نسبت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے دونوں مرتبہ ہونے والی ملاقاتوں میں نہایت مدبانہ طریقہ اپنایا اور اس مرتبہ تو انہیں اہم ترین سفارتی مشن بھی سونپا ہے جس پر خود ان کی اپنی سیاسی زندگی کا بڑی حد تک انحصار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…