بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ مودی کی تعریف کرتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں، یا پھر طنز کے تیر برساتے ہیں؟بھارتی میڈیا سمجھ گیا، نیا پنڈوراباکس کھول دیا، عمران خان سے کیوں جلن ہونے لگی؟

datetime 26  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) نریندر مودی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والے جنونی ہندوئوں کے ترجمان میڈیا کو بھی اچانک اپنے وزیراعظم کی عالمی سطح پر ہونے والی بھرپور بے عزتی کا احسا س پوری شدت سے ہوگیا ہے جس کے بعد ملک کے طول وعرض میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے مودی کی تعریف کرتے ہیں؟ مذاق اڑاتے ہیں؟ اور یا پھر طنز کے تیر برساتے ہیں؟بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر نے گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی اتنے مقبول ہیں جیسے امریکہ کے معروف گلوکار اور اداکار ایلوس ایرون پریسلے تھے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ دو ماہ میں دوسرے مرتبہ ایسی مثال دی ہے جس کی وجہ سے ان کی نیت پر شک ہونے لگا ہے کیونکہ اگر وہ ابراہم لنکن یا کینیڈی سے تشبیہہ دیتے تو بھارت کو اچھا لگتا۔بھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنی وزارت خارجہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس بات کا فوری طور پر نوٹس لے اورامریکی انتظامیہ تک یہ بات پہنچائی جائے تاکہ کسی اور ملک کا سربراہ ایسی ہمت نہ کرے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کسی بھی ملک کے سربراہ کا موازنہ کسی اداکاریا گلوکار سے کرنا مناسب نہیں ہے۔بھارتی خبررساں ایجنسی کے مطابق 26 اگست 2019 کو بھی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نریندر مودی کے جواب نہ دینے پر کہا تھا کہ حقیقت میں ان کی انگریزی بہت اچھی ہے لیکن وہ اس وقت بات کرنا نہیں چاہتے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے اس طرح کے عمل کو کسی بھی طرح دوستی کا نام نہیں دیا جا سکتا ہے کیونکہ دو ممالک کے تعلقات میں سربراہان کی دوستی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی نسبت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے دونوں مرتبہ ہونے والی ملاقاتوں میں نہایت مدبانہ طریقہ اپنایا اور اس مرتبہ تو انہیں اہم ترین سفارتی مشن بھی سونپا ہے جس پر خود ان کی اپنی سیاسی زندگی کا بڑی حد تک انحصار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…