جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

35 قانون سازوں کا امریکی حکومت پر پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کیلئے زور

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی) امریکا کے 35 قانون سازوں کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین باہمی مذاکرات کے لیے امریکا کا کسی قسم کا بھی تعاون عالمی استحکام برقرار رکھنے اور امریکیوں کے تحفظ میں مدد دے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوامِ متحدہ میں امریکی مندوب کیلی کرافٹ کو لکھے گئے خط میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے فیصلے پر

کانگریس اراکین کی تشویش کا بھی اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے جنوبی ایشیا کی 2 جوہری طاقتوں کے درمیان تنازع کا امکان ہوسکتا ہے۔مذکوہ خط میں امریکی مندوب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ کشمیر کے معاملے پر اب تک امریکی حکومت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں اس سے اراکین کانگریس کو آگاہ کیا جائے۔خط میں امریکی قانون سازوں کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنا عالمی تحفظ کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسا کے آپ جانتے ہیں تاریخی اعتبار سے بھارتی آئین نے جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت دی تھی اور گزشتہ ماہ بھارتی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس حیثیت کو تبدیل کردے گا۔انہوں نے لکھا کہ جولائی کے اواخر اور اگست کے اوائل میں بھارت نے کشمیر کے خطے میں مزید 45 ہزار فوجی بھیجے اور 5 اگست کو اس خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے ساتھ وہاں کے شہریوں کی نقل و حمل کی آزادی اور مواصلاتی روابط کی آزادی سلب کرلی گئیں اور اب رپورٹس ہیں کہ ان پابندیوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ اب جبکہ اقوامِ متحدہ (یو این)کی جنرل اسمبلی کا 74واں اجلاس ہورہا ہے ہم اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ یو این میں امریکی مشن کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت پر بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زور دیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ

امریکا کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں کسی بھی تعاون کی پیشکش عالمی استحکام کو برقرار رکھنے اور امریکی شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔خط میں انہوں نے یہ بھی استدعا کی کہ مہربانی کر کے ہمیں یہ

بتایا جائے کہ پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے یو این مشن اور امریکی حکومت کیا کررہی ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ ہم ان خدشات کی جانب آپ کی توجہ کو سراہتے ہیں اور چونکہ آپ اقوامِ متحدہ میں امریکا کی نمائندگی کریں گی اس لیے آپ کو ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…