خلیج میں قیام امن کا ایرانی منصوبہ،ہمسایوں سے ”دوستی“ایرانی صدرحسن روحانی کاسالانہ فوجی پریڈ کے موقع پر خطاب،بڑی پیشکش کردی

  اتوار‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2019  |  19:19

تہران (این این آئی)ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ان کا قیام امن کے لئے علاقائی تعاون کا ایک منصوبہ اقوام متحدہ میں پیش کرے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے خطے میں مزید فوجی کمک ارسال کرنے کے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ خلیج میں غیر ملکی فوج کی موجودگی سے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے،سالانہ فوجی پریڈ کے موقع پر ایک نشری تقریر میں صدر روحانی کا کہنا تھا کہ غیر ملکی فوج ہمارے عوام اور خطے میں عدم تحفظ کا باعث بنتی ہے۔ چودہ ستمبر کو سعودی تیل


کی تنصیبات پر تباہ کن حملوں کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن اور ریاض تیل تنصیبات پر حملوں کا الزام تہران پر عائد کرتے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔ان حملوں کے بعد جمعہ کے روز امریکا نے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کی درخواست پر علاقے میں اپنی مزید فوجی کمک ارسال کر رہا ہے۔ اپنے خطاب میں حسن روحانی نے خلیج میں موجود غیر ملکی فوج پر زور دیتے ہوئے انہیں ایران مفادات سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر غیرملکی فوج مخلص ہیں تو وہ علاقے کو ہتھیاروں کی دوڑ کا مرکز بنانے سے گریز کریں۔ خطے میں آپ کی موجودگی ہمیشہ تکلیف اور آلام کا باعث بنی ہے۔ آپ ہمارے علاقے سے جتنا دور رہیں گے، اتنا ہی یہاں امن کا دور دورہ ہو گا۔حسن روحانی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایران اقوام متحدہ میں قیام امن کا ایک منصوبہ پیش کرنے جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حساس اور تاریخی لمحے پر ہم اپنے ہمسایوں کی جانب دوستی اور بھائی چارے کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔دریں اثناء ایران کے پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر کسی کو بھی جنگ کی اجازت نہیں دے گا اور یہاں تک کہ چھوٹے پیمانے پر حملہ کرنے والے کسی بھی جارح کو تباہ کردیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میجر جنرل حسین سلامی نے ایک عوامی اجتماع میں اپنے سخت بیان میں مخالفین کو شکاری گدھ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا رواں برس جون میں ایرانی ایئر ڈیفنس کی جانب سے امریکی ڈرون مارگرانے کے واقعے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایران میں گرے ہوئے ڈرون کی باقیات موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری سرحد کی خلاف ورزی کرنے والے ہر کسی کو ہم نشانہ بنائیں گے اور اس کی ذمہ داری بھی لیں گے اور ایران کے پاس فوج کی عملی صلاحیت موجود ہے۔کسی بھی ممکنہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دشمن کی جانب سے کسی قسم کی اسٹریٹجک غلطی دہرانے کے حوالے سے پریشان نہیں ہے اور کسی بھی قسم کی صورت حال کے لیے تیار ہیں۔ میجرجنرل حسین سلامی نے کہا کہ دشمن کبھی فوج کے استعمال کے حوالے سے بات کرتا ہے لیکن 40 سال قبل پیش آئے طبس واقعے کے بعد صرف ہم بولتے ہیں جہاں امریکا کی ڈیلٹا فورسز کو راکھ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ زمین میدان جنگ بن جائے وہ تیار ہوجائیں، ہم کسی کو بھی اپنی سرزمین پر قبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر نے کہا کہ خیال رکھیں ایک مختصر جارحیت مختصر نہیں رہے گی کیونکہ ہم اس وقت تک جنگ جاری رکھیں گے جب جارحیت کرنے والے کو ناکام اور تباہ نہیں ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی حملہ آور کو محفوظ جگہ نہیں چھوڑیں گے۔

موضوعات:

loading...