بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کی ذمہ داری قبول کرے، امریکی رکن کانگریس

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی) امریکی رکن کانگریس راشدہ طلیب نے بھارتی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی ذمہ داری قبول کرے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی رکن کانگریس راشدہ طلیب نے

ٹوئٹ کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کی جانب سے 40 روز سے عائد لاک ڈاؤن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں بھارتی حکومت پر زور دیتی ہوں کہ وہ مقبو ضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی ذمہ داری قبول کرے اور اس کے ذمہ داران کو سزا دی جائے۔ وادی میں جاری کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی ہٹائی جائے تاکہ مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال واضع ہو سکے۔راشدہ طلیب نے مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کی بھی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا میں آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے کی منسوخی کی شدید مذمت کرتی ہوں جس کے باعث وادی میں ذرائع مواصلات کی پابندی عائد کی گئی ہے، زندگی بچانے والی ادویات کا فقدان پیدا ہو گیا اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔ذرائع مواصلات پر پابندی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کشمیری اپنے خاندان والوں سے رابطے میں نہیں ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وادی میں ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور عوام کو بنیادی طبی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔راشدہ طلیب نے کہا رپورٹس بناتی ہیں کہ تین ہزار سے زائد افراد کو بنا کسی جرم کے پبلک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جن میں بچے، وکلاء ، ڈاکٹرز، حریت رہنما، مذہبی رہنما اور سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…