بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کا افغان طالبان کیساتھ مذاکراتے ختم کرنے کا اعلان، افغانستان میں کونسا خطرے بڑھ جائے گا اور اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ الرٹ جاری

datetime 9  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کیے جانے کے اعلان سے نہ صرف افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ یہ پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج بھی ہوگا ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد کو خارجہ پالیسی کے میدان میں پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کے اس اعلان کا باضابطہ سرکاری

ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کو اندازہ ہے کہ قیام امن کا راستہ کتنا ناہموار ہے تاہم اسلام آباد کو امید نہیں تھی کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ممکنہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچنے کے بعد اچانک ختم ہوجائیں گے۔ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کو علم تھا کہ صدر ٹرمپ جلد طالبان کے چند سینئر رہنماؤں سے کیمپ ڈیوڈ میں ایک خفیہ ملاقات کرنے والے ہیں جس کے نتیجے میں افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہوگی اور اب اسلام آباد کو ان مذاکرات کے یوں اچانک ختم ہوجانے پر تشویش لاحق ہے کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان کو دباؤ بڑھے گا کہ وہ افغان طالبان کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے طالبان سے مذاکرات معطل کیے جانے کا سبب جمعرات کو کابل میں ہونے والے حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کو قرار دیا جارہا ہے۔تاہم پاکستان کا خیال ہے کہ اس کے پس پردہ دیگر محرکات اور وجوہات بھی ہوسکتی ہے جو یوں امریکا نے اچانک مذاکرات کو معطل کیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شاید یہ سوچ کر مذاکرات منسوخ کیے ہوں تاکہ وہ طالبان کو مستقل جنگ بندی پر آمادہ کیا جاسکے جس کی وہ ہمیشہ سے مخالفت کرتے رہے ہیں، اور اگر یہ وجہ ہے تو پھر پاکستان کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ جاتی ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اب پاکستان سے کہے گی کہ

وہ افغان طالبان کو مستقل جنگ بندی پر آمادہ کرے۔امریکا میں تجزیہ کار اور مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی فوجی کا قتل اصل وجہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو امریکا کو صرف اس سال کے بعد ہی طالبان کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا چاہیے تھی کیونکہ صرف 16 امریکی امریکی فوجی اہلکار باغیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔ٹرمپ کے آخری لمحے کے فیصلے کے پیچھے ایک

ممکنہ وجہ طالبان کو مستقل طور پر جنگ بندی پر راضی کرنا، دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے متنبہ کیا کہ ‘‘اگر وہ اس کی شرائط پر طالبان سے معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو امریکا پاکستان کو قربانی کا بکرا بنائے گا۔امریکی فوجیوں کی واپسی سے پاکستان کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے مواقع بھی کھلیں گے جب ایسے وقت میں جب اسلام آباد کو کشمیر کے بارے میں بھارت کے ساتھ تناو کو روکنے کے پس منظر کے خلاف اپنی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…