جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایل او سی پار کرنے کا اعلان ,اسلام آباد اور مظفرآباد اس مارچ کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں، پیغام جاری

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

مظفرآباد(آن لائن)بھارت کی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما یٰسین ملک کی قیادت کی سربراہی میں قائم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے 4 اکتوبر کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی طرف پرامن آزادی مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد اور مظفرآباد کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مارچ کے لیے کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جے کے ایل ایف کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں اس مارچ کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ‘بھارت کے زیرقبضہ کشمیر میں محصور عوام سے اظہار یکجہتی، مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی طرف عالمی برادری کی توجہ دلانے اور اس مسئلے کے مستقل اور جمہوری طریقے سے ترجیحی بنیادوں پر حل کے لیے ہم نے ایک انقلابی فیصلہ کیا ہے کہ جے کے ایل ایف کے قائم مقام چیئرمین عبدالحمید بٹ کی قیادت میں بھمبر سے چھکوٹھی تک پرامن لوگوں کا آزادی کشمیر مارچ ہوگا’۔ ایل او سی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘بعدازاں ہم خونی لائن یا سیزفائر لائن جو جموں و کشمیر کو چھکوٹھی سیکٹر سے علیحدہ کرتی ہے اسے روند دیں گے’۔ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ راولپنڈی میں 30 اگست کو ہونے والی جے کے ایل ایف کی سب سے سے بااختیار ‘سپریم کونسل’ اور آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی زونل ورکننگ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا تھا۔جے کے ایل ایف کے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے پوری وادی کو فوجی حراستی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے، لوگوں کو اپنے گھروں میں محصور کردیا ہے اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں جبکہ مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ ہے۔انہوں نے کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ یٰسین ملک پہلے ہی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تنہائی میں ہیں جبکہ حریت قیادت سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق بھی نظربند ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ان قائدین کے علاوہ شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، نور محمد کلوال، ڈاکٹر فیاض احمد، میاں عبدالقیوم، محمد یاسین خان اور ہزاروں نوجوان مختلف بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کی حکومت ہمارے ساتھ 4 اکتوبر سے پہلے یا بعد میں ایل او سی کے اس پار چانے والے مارچ میں شامل ہوتی ہے تو جے کے ایل ایف قومی اتفاق رائے کی خاطر تاریخ کو دوبارہ ایڈجسٹ ۔کرنے کے لیے تیار ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…