جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

”ذلت کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے“ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر میئر سری نگر نے بغاوت کا اعلان کردیا

datetime 3  ستمبر‬‮  2019 |

سری نگر(این این آئی) بھارت میں انتہا پسند جنونی ہندوؤں کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بہیمانہ اور انسانیت سوز مظالم پر میئر سری نگر نے اعلان بغاوت کردیا۔ بی جے پی نے اپنے ہی حمایت یافتہ کینسر کے مرض میں مبتلا میئر کو سچ بولنے کی پاداش میں حفاظتی تحویل میں لے کر نئی دہلی منتقل کردیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اس وقت سخت ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے اپنے حمایت یافتہ میئر سری نگر جنید مٹو نے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر آواز حق بلند کردی۔انہوں نے اپنی آٹھ دن کی نظر بندی کے بعد پہلے ہی انٹرویو میں نئی دہلی کی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو فورسز آپ کو سیکورٹی فراہم کررہی ہوں اور پھر وہی اچانک آپ کو گھر سے باہر نکلنے سے روک دیں تو بہت ذلت محسوس ہوتی ہے۔جنید مٹو نے اپنی حراست کو غیر قانونی اور تضحیک آمیز قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ نفسیاتی طور پرحراست میں گزارے گئے آٹھ دن بہت ذلت آمیز، تکلیف دہ اور مشکل تھے۔خون کے سرطان میں مبتلا جنید مٹو نے نظر بندی کے اختتام پر دئیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ملنے والی ذلت کا آپ اس وقت تک تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں جب تک کہ خود اس صورتحال سے نہ گزریں۔بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے حمایت یافتہ میئر سری نگر نے کہا کہ دم گھٹنے جیسا ماحول اور سیکورٹی فورسز ک تضحیک آمیز رویہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔جنید مٹو نے تسلیم کیا کہ وہ گزرے آٹھ دنوں میں والدین کی صحت کے حوالے سے کافی فکر مند تھے کیونکہ فون بھی کام نہیں کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عید کے دن انہیں صرف چار منٹ کیلئے والد سے ملنے دیا گیا تھا۔سری نگر کے میئر جنید مٹو کو مودی حکومت نے حفاظتی تحویل میں لے کر نئی دہلی منتقل کردیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…