بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بھارتی تسلط کیخلاف مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے جاری،بھارتی فوج سے تصادم میں متعدد مظاہرین زخمی،صورتحال تشویشناک

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

سرینگر (این این آئی) مقبوضہ کشمیرمیں سرینگر اور دیگر علاقوں میں لوگ کرفیو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی تسلط اور جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرینگر اور دیگر علاقوں میں نوجوان گھروں سے باہر آئے اوربھارت کے خلاف مظاہرے کئے۔ بھارتی فوجیوں نے مظاہرین پر گولیاں اور پیلٹ فائر کرکے اور آنسوگیس کے گولے داغ کر متعدد افراد کو زخمی کردیا۔

پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے کم از کم 8افراد کو سرینگر کے ہسپتالوں میں داخل کیاگیا۔ ایک سرکاری عہدیدار نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں پتھراؤ کے کم ازکم دودرجن واقعات پیش آنے کی تصدیق کی ہے۔دریں اثناء وادی کشمیر اور جموں خطے کے پانچ اضلاع میں منگل کو مسلسل سولہویں روز بھی سخت کرفیو اور دیگر پابندیاں جاری ر ہیں جس سے محصور کشمیریوں کی حالت زار مزید ابتر ہوگئی۔ مقبوضہ علاقے میں 5اگست کو نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد ٹیلیفون، انٹرنیٹ سروس اور ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات مسلسل معطل ہیں جس کی وجہ سے علاقے کا باقی دنیا سے رابطہ مکمل طورپر منقطع ہے۔ تمام بازار اور دکانیں بند جبکہ سڑکیں سنسان ہیں۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز انہیں پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں۔ بھارتی حکومت نے دنیا کو دکھانے کے لیے مخصوص علاقوں میں 200کے قریب سکول کھولنے کی کوشش کی جوناکام ہوگئی کیونکہ والدین نے اپنے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے انکارکیا۔نوجوانوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ سمجھ گئے ہیں کہ یہ ان کے لیے ”کرو یا مرو“کا وقت ہے اور انہوں نے احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مواصلات کے جدید ذرائع کی معطلی کے بعد انہوں نے خود کو منظم کرنے کے نئے طریقے اختیار کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب وہ دیکھتے ہیں

بھارتی فورسز علاقے میں داخل ہورہی ہیں تووہ لوگوں کو خبردار کرنے کیلئے مسجدوں میں جاکرلاؤد سپیکروں پرنغمے چلاتے ہیں اور لوگوں کو غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج کیلئے کہتے ہیں۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق اور تین سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت کشمیریوں کی پوری سیاسی قیادت جیلوں یا گھروں میں مسلسل نظربند ہے جبکہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہزاروں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو کالے

قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیاگیا ہے۔ بھارت کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر امرتا سین نے نئی دہلی میں ایک انٹرویو میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھارتی شہری ہونے پر کوئی فخر نہیں کیونکہ کشمیر کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدام سے بھارت ایک جمہوری ملک ہونے کی ساکھ کھو چکا ہے۔ ڈاکٹر امرتا سین نے جو ماہر اقتصادیات اور فلاسفرہیں، کہاکہ کشمیر میں بھارت کا اقدام انگریزوں کے نوآبادیاتی دور کی عکاسی کرتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…