منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

مودی کی ترقی کا سورج کشمیر کیلئے سیاہ ترین وقت ہے، عالمی میڈیا بھی مودی سرکار کےاقدام کے خلاف بول پڑا

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی)عالمی میڈیا بھی مودی سرکار کے مقبوضہ کشمیر میں اقدام کے خلاف بول پڑا ، معروف امریکی جریدے میں شائع اپنے مضمون میں صحافی ایمی کازم نے مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں اقدام کو کشمیریوں کیلئے تاریخ کا سیاہ ترین وقت قرار دیا ہے۔ مودی نے آرٹیکل تھری سیونٹی کے خاتمے کو کشمیریوں کیلئے ترقی کا نیا سورج قرار دیا تھا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے مضمون میں ایمی کازم نے کہا کہ دو ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد اگرچہ کہ کشمیری خاموش ہیں اور مقبوضہ وادی میں نہ صرف ذرائع مواصلات بند ہیں بلکہ شہری کے نقل و حمل کو بھی انتہائی محدود کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں رہنماوں اور دو وزراء کو حراست میں لینے کا بھی مضمون میں تذکرہ کیا۔اپنے مضمون میں مصنف میں لکھا کہ اگرچہ کہ دہلی کی جانب سے اصرار ہے کہ یہ اقدام کشمیری عوام کے طیش کو قابو میں رکھنے کیلئے کیا گیا ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں جو کہ خطرناک تشدد کا سبب بن سکتے ہیں۔مصنف نے مودی سرکار کے اقدام کو خطرناک جوا قرار دیا اور کہا کہ بھارتی حکومت کا کشمیریوں کو خاموش رکھنے کے یہ اقدامات اشارہ دیتے ہیں کہ نئی دہلی کو مظلوم کشمیریوں سے کسی بھی قسم کی ہمدردی نہیں ہے۔مصنف نے آرٹیکل تھری سیونٹی کے خاتمے کے بعد بھارتی اقدامات اور کشمیریوں کے صدمے اور انسانی حقوق کی پامالی کی عدم واقفیت کو نئی دہلی کی کوتاہ اندیشی قرار دیا۔ایمی کازم کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پر پالیٹ گنز کا استعمال کیا گیا ہے ۔

اگرچہ کہ گزشتہ دہائی کے دوران مقبوضہ کشمیر میں تشدد میں کمی کے باوجود عام کشمیری بھارت سے الحاق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کیونکہ وہ بھارتی ریاست کو ایک فوجی سمجھتے ہیں جوکہ ہر وقت کشمیریوں کو شکوک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ایمی نے مضمون میں مزید لکھا کہ مودی سرکار نے خود کو مختلف ظاہر کرتے ہوئے الیکشن میں فتح کیلئے کشمیریوں سے مزید روزگار اور تعلیمی اداروں کے وعدے کیے لیکن اب انہوں نے کشمیریوں کی صورتحال ان مقامی رہنمائوں اور جماعتوں کو ہی قرار دے دیا ہے جوکہ انتخابی سیاست میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

مصنف نے مزید لکھا کہ مودی حکومت نے کشمیری رہنماوں کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے سامنے خود کو ایک مسیحا پیش کرتے ہوئے ایک نئی اور شفاف سیاسی کلاس وہاں پر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ مودی سرکار سمجھتی ہے کہ کشمیری اب تنازعات سے تھک چکے ہیں اور وہ اس ازسرنو آغاز کو تسلیم کرلیں گے لیکن بغیر کسی پر خلوص کوشش کے یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسا ہوگا کیونکہ مقبوضہ وادی میں تسلسل کے ساتھ لاک ڈاون کے باعث ان کے ذہن یا پھر غصے کو دھندلانا ممکن نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…