بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

امریکی خاتون رکن کانگریس نے اسرائیل کی مشروط اجازت ٹھکرادی

datetime 17  اگست‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)فلسطینی نژاد امریکی قانون ساز راشدہ طلیب نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اہلخانہ سے ملاقات کی مشروط اجازت کو’ ’جبر‘‘ قرار دے کر ٹھکرادیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل نے تل ابیب مخالف بیان دینے پر امریکی کانگریس کی مسلمان خواتین پر اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگادی تھی، تاہم بعد ازاں اسرائیل نے

ایک امریکی خاتون قانون ساز راشدہ طلیب کو انسانی بنیادوں پر مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد اپنے اہلخانہ بالخصوص دادی سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔تاہم تل ابیب نے راشدہ طلیب پر شرط عائد کی تھی کہ وہ اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم کو فروغ نہیں دیں گی۔بعدازاں اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ راشدہ طلیب نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ وہ ہر قسم کی پابندیوں کا احترام کریں گی اور اپنے دورے کے دوران اسرائیل کے بائیکاٹ کو فروغ نہیں دیں گی۔خیال رہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر امریکی کانگریس کی مسلمان خواتین پر اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگائی تھی۔تاہم اس تمام معاملے پر اسرائیل کی جانب سے مشروط اجازت ملنے کے چند گھنٹوں بعد ہی راشدہ طلیب نے تل ابیب کی مشروط پیشکش مسترد کردی۔راشدہ طلیب نے متعدد ٹوئٹس کیں اور وضاحت دی کہ انہوں نے اسرائیلی ظلم و ستم کے سائے میں ملنے والی مشروط اجازت سے کیوں انکار کیا۔انہوں کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی ظلم وجبر کے نظام میں اہلخانہ سے ’مشروط ملاقات نسل پرستی، جبر اور ناانصافی کے خلاف ان کے یقین کو توڑ دے گی۔راشدہ طلیب کا کہنا تھا کہ جب میں کانگریس کا حصہ بنی تو فلسطینیوں میں امید کی کرن جاگی کہ کوئی تو اسرائیل کے غیر انسانی سلوک کے بارے میں حقائق پر آواز اٹھائے گا۔واضح رہے کہ 43 سالہ راشد طلیب رواں برس جنوری میں امریکی کانگریس کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو اجازت نہیں دے سکتیں کہ وہ اہلخانہ سے ملاقات کے بدلے ان کی توہین کرے اور ان کا سر اسرائیلی جبر اور نسل پرستانہ سیاست کے آگے جھک جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی دادی نہیں چاہتیں کہ اسرائیل ان کی آواز کو خاموش کردے اور ان کے ساتھ مجرم جیسا سلوک برتا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…