بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ملائیشیا میں ہندووں کو بھارت کی ’مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق۔۔!  حساس بیان ملائشیا میں مقیم ذاکر نائیک کومہنگا پڑ گیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

کوالالمپور(آن لائن) بھارت کے معروف مبلغ ذاکر نائیک کی جانب سے مبینہ طور پر دیے گئے حساس ریمارکس پر انہیں ملائیشیا میں تفتیش کا سامنا ہے۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام متعدد وزرا کی جانب سے ذاکر نائیک کو بے دخل کرنے کے مطالبے کے بعد اٹھایا گیا جب انہوں نے ایک متنازع بیان میں کہا کہ ملائیشیا میں ہندووں کو بھارت کی ’مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں‘۔

خیال رہے کہ ذاکر نائیک گزشتہ 3 سالوں سے ملائیشیا میں رہائش پذیر ہیں جبکہ بھارت میں انہیں نفرت انگیز تقریر اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔حال ہی میں انہیں ملائیشیا کی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو مالے نسل (جو زیادہ تر مسلمانوں پر مشتمل ہے) کی اکثریت کے خلاف مبینہ طور پر اکسانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اس سلسلے میں وزیر داخلہ محی الدین یٰسین نے بتایا کہ پولیس ذاکر نائیک اور متعدد دیگر افراد سے نسل پرستانہ بیان دینے اور ایسی جعلی خبریں پھیلانے کے حوالے سے تفتیش کرے گی جس سے عوامی جذبات متاثر ہوئے۔بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں غیر مسلم شہریوں سمیت ہر ایک کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جو کوئی بھی عوامی ہم ا?ہنگی کے لیے خطرہ بنے گا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے سے پہلے نہیں سوچیں گے‘۔ؔدوسری جانب جب ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نمائندے سے اس حوالے سے جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے وزیر داخلہ کا بیان پڑھنا چاہیں گے۔خیال رہے کہ ملائیشیا میں نسل اور مذہب ایک حساس معاملہ ہے جہاں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ یعنی 60 فیصد مالے قوم سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں جبکہ بقیہ ا?بادی چینیوں، بھارتیوں پر مشتمل ہے جن کی اکثریت ہندو ہے۔اس سے قبل ذاکر نائیک بھارت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ انہیں سیاق وسباق سے ہٹ پیش کیا جاتا ہے۔ملائیشیا کی سرکاری خبررساں ادارے برنامہ نے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے حوالے سے بتایا کہ

انہوں نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ذاکر نائیک کو بھارت واپس نہیں بھیجا جائے گا کیوں کہ ان کے تحفظ کو خطرہ ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’اگر کوئی دوسرا ملک ذاکر نائیک کو رکھنا چاہے تو اسے خوش ا?مدید کہا جائے گا‘۔یاد رہے کہ بھارت نے ذاکر نائیک اور ان کے معاونین پر اپنے پیروکاروں میں دشمنی کا تاثر ابھارنے اور مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت یا ناپسندیدگی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے 2016 میں ان کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کردی تھی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…