منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملائیشیا میں ہندووں کو بھارت کی ’مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق۔۔!  حساس بیان ملائشیا میں مقیم ذاکر نائیک کومہنگا پڑ گیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

کوالالمپور(آن لائن) بھارت کے معروف مبلغ ذاکر نائیک کی جانب سے مبینہ طور پر دیے گئے حساس ریمارکس پر انہیں ملائیشیا میں تفتیش کا سامنا ہے۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام متعدد وزرا کی جانب سے ذاکر نائیک کو بے دخل کرنے کے مطالبے کے بعد اٹھایا گیا جب انہوں نے ایک متنازع بیان میں کہا کہ ملائیشیا میں ہندووں کو بھارت کی ’مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں‘۔

خیال رہے کہ ذاکر نائیک گزشتہ 3 سالوں سے ملائیشیا میں رہائش پذیر ہیں جبکہ بھارت میں انہیں نفرت انگیز تقریر اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔حال ہی میں انہیں ملائیشیا کی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو مالے نسل (جو زیادہ تر مسلمانوں پر مشتمل ہے) کی اکثریت کے خلاف مبینہ طور پر اکسانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اس سلسلے میں وزیر داخلہ محی الدین یٰسین نے بتایا کہ پولیس ذاکر نائیک اور متعدد دیگر افراد سے نسل پرستانہ بیان دینے اور ایسی جعلی خبریں پھیلانے کے حوالے سے تفتیش کرے گی جس سے عوامی جذبات متاثر ہوئے۔بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں غیر مسلم شہریوں سمیت ہر ایک کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جو کوئی بھی عوامی ہم ا?ہنگی کے لیے خطرہ بنے گا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے سے پہلے نہیں سوچیں گے‘۔ؔدوسری جانب جب ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نمائندے سے اس حوالے سے جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے وزیر داخلہ کا بیان پڑھنا چاہیں گے۔خیال رہے کہ ملائیشیا میں نسل اور مذہب ایک حساس معاملہ ہے جہاں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ یعنی 60 فیصد مالے قوم سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں جبکہ بقیہ ا?بادی چینیوں، بھارتیوں پر مشتمل ہے جن کی اکثریت ہندو ہے۔اس سے قبل ذاکر نائیک بھارت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ انہیں سیاق وسباق سے ہٹ پیش کیا جاتا ہے۔ملائیشیا کی سرکاری خبررساں ادارے برنامہ نے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے حوالے سے بتایا کہ

انہوں نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ذاکر نائیک کو بھارت واپس نہیں بھیجا جائے گا کیوں کہ ان کے تحفظ کو خطرہ ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’اگر کوئی دوسرا ملک ذاکر نائیک کو رکھنا چاہے تو اسے خوش ا?مدید کہا جائے گا‘۔یاد رہے کہ بھارت نے ذاکر نائیک اور ان کے معاونین پر اپنے پیروکاروں میں دشمنی کا تاثر ابھارنے اور مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت یا ناپسندیدگی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے 2016 میں ان کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کردی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…