منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

آئین میں کشمیر کوخصوصی درجہ دینا غیر منصفانہ فیصلہ تھا ، نریندر مودی

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ملک کے ’یوم آزادی‘ کے موقع پر لال قلعہ میں سرکاری تقریب سے خطاب میں کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی سے متعلق اپنے متنازع فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ادھر سرحد کے دوسری جانب پاکستان میں اپنے ہمسائے بھارت کے ’یوم آزادی‘ کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منایا جا رہا ہے اور ملک کے طول وعرض میں احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے کشمیر میں بھارت کی

چیرہ دستیوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔پانچ اگست کو مودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ کشمیر کو دستوری طور پر حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر کے اسے بھارت میں ضم کر رہی ہے۔ اس معاملے پر بعد دستوری تبدیلی کرتے ہوئے کشمیر کو یہ خصوصی حیثیت دینے والی دستوری شق 370 تبدیل کر دی گئی تھی۔دوسری جانب گذشتہ گیارہ روز سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے زیادہ تر حصے میں کرفیو ہے جب کہ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس بند ہے۔ٹی وی چینلز پر بہ راہ راست دکھائے جانے والے خطاب میں بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا کہ ماضی میں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت نے وہاں علاحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دی اور خواتین کے لیے ناانصافی کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ اس شق کی وجہ سے کسی کشمیری خاتون کو کسی غیرکشمیری سے شادی پر اپنے بنیادی حقوق سے ہاتھ دھونا پڑتے تھے۔مودی کا مزید کہنا تھا،جموں، کشمیر اور لداخ کے حوالے سے سابقہ طریقہ ہائے کار نے وہاں کرپشن اور اقربا پروری میں اضافہ کیا اور خواتین، بچوں، دلت اور قبائلی برادریوں کے لیے اس طریقہء کار نے ناانصافی کے دروازے کھولے۔بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 میں تبدیلی کے بعد اب کوئی بھی بھارتی شہری کشمیر میں جائیداد کی خرید وفروخت کر سکتا ہے اور مستقل سکونت بھی اختیار کر سکتا ہے، جو اس سے قبل ممکن نہیں تھا۔ اس بھارتی فیصلے کو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر اپنے معمول کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ اب بھی کشمیر میں شدید نوعیت کا سکیورٹی سیٹ اپ موجود ہے اور مقامی افراد کی نقل و حرکت پر قدغن ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کشمیر کی زیادہ تر سڑکیں اس وقت مختلف آہنی رکاوٹوں کے ذریعے بدستور بند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…