بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

آئین میں کشمیر کوخصوصی درجہ دینا غیر منصفانہ فیصلہ تھا ، نریندر مودی

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ملک کے ’یوم آزادی‘ کے موقع پر لال قلعہ میں سرکاری تقریب سے خطاب میں کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی سے متعلق اپنے متنازع فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ادھر سرحد کے دوسری جانب پاکستان میں اپنے ہمسائے بھارت کے ’یوم آزادی‘ کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منایا جا رہا ہے اور ملک کے طول وعرض میں احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے کشمیر میں بھارت کی

چیرہ دستیوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔پانچ اگست کو مودی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ کشمیر کو دستوری طور پر حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر کے اسے بھارت میں ضم کر رہی ہے۔ اس معاملے پر بعد دستوری تبدیلی کرتے ہوئے کشمیر کو یہ خصوصی حیثیت دینے والی دستوری شق 370 تبدیل کر دی گئی تھی۔دوسری جانب گذشتہ گیارہ روز سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے زیادہ تر حصے میں کرفیو ہے جب کہ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس بند ہے۔ٹی وی چینلز پر بہ راہ راست دکھائے جانے والے خطاب میں بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا کہ ماضی میں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت نے وہاں علاحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دی اور خواتین کے لیے ناانصافی کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ اس شق کی وجہ سے کسی کشمیری خاتون کو کسی غیرکشمیری سے شادی پر اپنے بنیادی حقوق سے ہاتھ دھونا پڑتے تھے۔مودی کا مزید کہنا تھا،جموں، کشمیر اور لداخ کے حوالے سے سابقہ طریقہ ہائے کار نے وہاں کرپشن اور اقربا پروری میں اضافہ کیا اور خواتین، بچوں، دلت اور قبائلی برادریوں کے لیے اس طریقہء کار نے ناانصافی کے دروازے کھولے۔بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 میں تبدیلی کے بعد اب کوئی بھی بھارتی شہری کشمیر میں جائیداد کی خرید وفروخت کر سکتا ہے اور مستقل سکونت بھی اختیار کر سکتا ہے، جو اس سے قبل ممکن نہیں تھا۔ اس بھارتی فیصلے کو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر اپنے معمول کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ اب بھی کشمیر میں شدید نوعیت کا سکیورٹی سیٹ اپ موجود ہے اور مقامی افراد کی نقل و حرکت پر قدغن ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کشمیر کی زیادہ تر سڑکیں اس وقت مختلف آہنی رکاوٹوں کے ذریعے بدستور بند ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…