بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ایران نوازعالم دین کوعلاج کی شرائط قبول کرنے کیلئے دو گھنٹے کی بھارتی مہلت

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی حکومت نے ایک ایران نواز نائیجیرین عالم دین کو اپنے ہاں علاج کے لیے شرائط قبول کرنے کے لیے دو گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے اگر وہ شرائط نہیں مانتے تو وہ ملک چھوڑ دیں۔بھارتی حکام نے نائیجیرین عالم دین ابراہیم الزکزاکی سے کہا کہ وہ بھارت میں علاج کرانا چاہتے ہیں انہیں انڈیا کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی ورنہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ ایرانی نیوز ایجنسی نے یہ واقعہ لندن میں قائم

ایران نواز اسلامی انسانی حقوق تنظیم کے سربراہ مسعود شجرہ سے نقل کیا ہے۔تاہم مسعود شجرہ نے بھارتی حکومت کی وہ شرائط بیان نہیں کیں جنہیں نائیجیریا کے ایک شیعہ گروپ کے لیڈر الشیخ الزکزاکی کے سامنے پیش کیا گیا۔الشجرہ نے بتایا کہ حال ہی میں مجھے ایک تشویشناک خبر موصول ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہمارے ایک سرکردہ عالم دین کو بھارت میں علاج کے لیے مشکل کا سامنا ہے۔ بھارتی حکام نے ان کے سامنے علاج کے لیے کچھ شرائط پیش کیں اور ساتھ ہی کہا کہ وہ ان شرائط کو دو گھنٹے کے اندر قبول کرے ورنہ ملک چھوڑ دے۔شجرہ کا مزید کہنا ہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے شیعہ عالم دین کے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ کیا۔ بھارت میں علاج معالجے کے لیے علاج انتہائی خراب ہیں۔ مریضوں سے مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مریضوں کے پاس بہ حفاظت اور قابل اعتماد علاج کا کوئی ذریعہ نہیں۔انسانی حقوق کارکن مسعود شجرہ نے بھارتی حکومت کی طرف سے الشیخ زکزاکی کے ساتھ برتے جانے والے سلوک کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو علاج کے لیے اپنی شرائط تسلیم کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور بیمار کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے۔خیال رہے کہ نائیجیریا کے حکام نے 12 اگست سوموار کے روز شیعہ گروپ کے سربراہ الشیخ ابراہیم الزکزاکی کو اہلیہ سمیت علاج کے لیے بھارت جانے کی اجازت دی تھی۔ الشیخ زکزاکی کے بھائی پر حال ہی میں نائیجیریا میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔الشیخ محمد یعقوب نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران نے الشیخ زکزاکی کو تہران کے دورے کے دعوت دی اور ان سے ایران کیلیے اپنے ملک میں کام کرنے پر زور دیا تھا۔ الشیخ زکزاکی 1980ء کو پہلی بار ایران کیدورے پر گئے۔ انہوں نے ایران کی معاونت سے’نائیجرین اسلامک موومنٹ’ کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…