منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

اب کشمیر سے ”بہو“ لائیں گے، آرٹیکل370کا خاتمہ کے بعد جنونی ہندوؤں کے مکروہ عزائم سامنے  آناشروع،اہم وزیر اور ارکان اسمبلی کی ویڈیو وائرل ہوگئی

datetime 10  اگست‬‮  2019 |

چندی گڑھ(آن لائن) بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ اب کشمیر کی گوری لڑکیوں کو شادی کے لیے لایا جا سکتا ہے۔فتح باد میں ’بیٹی بچاؤ مہم‘ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیر اکثر کہتے ہیں کہ وہ بہار سے بہو لائیں گے، ان دنوں لوگ کہہ رہے ہیں کہ اب کشمیر کا راستہ صاف ہوگیا ہے،

اب ہم لوگ وہاں سے بہو لائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسند حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نوجوان مقبوضہ کشمیر میں زمین بھی لیں گے اور لڑکیاں بھی ملیں گی۔بی جے پی کی جانب سے مقبوضہ وادی کشمیر کو حاصل نیم خودمختاری کو آئین میں تحفظ دینے والی شق 370 کے خاتمے کو چند گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں کہ جنونی ہندوؤں کے مکروہ عزائم سامنے  آنا شروع ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے مقبوضہ وادی چنار سمیت مسلمانوں میں سخت خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کچھ روز سے ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے اترپردیش کے رکن اسمبلی پارٹی کارکنان کو  آئین کی شق 370 کے خاتمے کی نوید دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اب ان کے لیے گوری کشمیری لڑکیوں سے شادی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔وکرم سائنی نامی رکن پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی بات ویڈیو کیمرے کے ذریعے پورے بھارت میں گردش کررہی ہے۔  بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ اب کشمیر کی گوری لڑکیوں کو شادی کے لیے لایا جا سکتا ہے۔فتح باد میں ’بیٹی بچاؤ مہم‘ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیر اکثر کہتے ہیں کہ وہ بہار سے بہو لائیں گے، ان دنوں لوگ کہہ رہے ہیں کہ اب کشمیر کا راستہ صاف ہوگیا ہے، اب ہم لوگ وہاں سے بہو لائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…