بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کشمیر پر ثالثی سے متعلق صدر ٹرمپ کی پیشکش سنجیدہ نہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر امریکی تھنک ٹینک

datetime 8  اگست‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکہ کے معروف تھنک ٹینک ’’سٹمسن سینٹر‘‘ میں جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈپٹی ڈائریکٹر اور سینئر فیلو ایلزبتھ تھریلکلڈ نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے قبل امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش سنجیدہ نہیں ہے اور اسے نظر انداز کر دیا جانا چاہئے۔امریکی میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی اس پیشکش سے ہو سکتا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے میں کسی قدر عجلت سے کام لیا ہو لیکن ایسا ہونا غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ بھارت کی حکمران بھارتہ جنتا پارٹی کے منشور میں یہ بات پہلے سے موجود تھی اور انتخابات کی مہم کے دوران بھی اس کا بار بار ذکر کیا گیا تھا۔ایلزبیتھ تھریلکلڈ نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام کے اثرات کئی برس تک شدت سے محسوس کیے جاتے رہیں گے تاہم اس اقدام کے خلاف بین الاقوامی برادری کی طرف سے کوئی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ایلزبتھ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں امریکہ کی دلچسپی اس بات تک محدود ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی صورت حال قابو سے باہر نہ ہو تاہم ایلزبتھ تھریلکلڈ کے مطابق اس اقدام کو قانونی طور پر ضرور چیلنج کیا جائیگا کیونکہ بھارتی آئین واضح کرتا ہے کہ ایسا اقدام کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی مشاورت کے بغیر نہیں اٹھایا جا سکتا ہے تاہم مرکزی حکومت کچھ عرصہ پہلے کشمیر کی اسمبلی کو برخواست کر چکی ہے لہذا ایسی مشاورت کا امکان پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ یہ فیصلہ ملک کی اعلیٰ عدالت میں ضرور چیلنج ہو گا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی سطح پر کیے گئے اس فیصلے کے حوالے سے ملک کی عدلیہ کیسے رد عمل کا مظاہرہ کرتی ہے۔انتہا پسند ہندو نظریے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایلزبتھ تھریلکلڈ نے کہا کہ قوم پرستی اور انتہاپسندی کے نظریات اب دنیا بھر میں سامنے آ رہے ہیں جو قوموں میں تقسیم کا باعث بن رہے ہیں اور بھارت میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے تاہم بین الاقوامی برادری اس بات کا بھرپور جائزہ لیتی رہے گی کہ بھارتی حکومت کشمیر میں موجود برادریوں کے حقوق کی پاسداری کس انداز میں کرتی ہے۔ایلزبتھ نے پاکستان کی طرف سے رد عمل کا ذکر کرتے

ہوئے کہا کہ پاکستان میں چند اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے ہیں اور اس نے ترکی، ملیشیا اور خلیجی ممالک سے تعاون حاصل کرنے کے سلسلے میں رابطے کیے ہیں تاہم بین الاقوامی برادری اس بارے میں زیادہ تر خاموش ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے بھارتی اقدام کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کیا ہے تاہم چین نے خود اپنے صوبے سنکیانگ میں ویغور مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے

تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور کسی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔انہوںنے کہاکہ کشمیر کے بارے میں اپنے اقدام کے حوالے سے بھارت کا بھی یہی مؤقف ہو گا کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور وہ کسی ملک کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ یوں چین اس معاملے پر سخت رویہ اپنانے میں

کامیاب نہیں ہو گا۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کے اس اقدام سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سٹمسن سینٹر میں جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق اس منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور ان کے خیال میں اس بھارتی اقدام کے سی پیک پر کسی قسم کے اثرات مرتب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…