منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی بدمعاشی ایران کے جوہری بحران میں اضافے کی وجہ ہے، چین

datetime 9  جولائی  2019 |

بیجنگ (این این آئی)چین کا کہنا ہے کہ امریکا کی ’یک طرفہ بدمعاشی‘ ایران کے جوہری بحران میں اضافے کی وجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا کی یک طرفہ بدمعاشی ایک ایسا ٹیومر بن گیا ہے جو خراب ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر ڈالا گیا زیادہ دباؤ ایرانی

جوہری بحران کیبنیادی وجہ ہے۔گینگ شوانگ نے کہا کہ چین نے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی شرائط کو پورا نہ کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔گزشتہ روز ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کی مزید شرائط پر اس وقت تک عملدرآمد نہ کرنے کی دھمکی دی تھی جب تک دیگر فریقین اس کا کوئی باقاعدہ حل تلاش نہیں کر لیتے۔2015 میں ایران اور 6 عالمی قوتوں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، امریکا اور روس کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا جس میں تہران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں جوہری مواد کی افزودگی کی سطح میں کمی پر اتفاق کیا تھا۔گزشتہ برس امریکا نے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور اگست 2018 میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی تھیں جس میں ایرانی تیل کی برآمدات اور بینکنگ نظام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی حد میں اضافے کے اقدام سے جوہری معاہدے کے حامی ممالک نے بھی اختلاف کا اظہار کیا ہے، جرمنی نے ایران سے تمام شرائط کے مخالف اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔گزشتہ روز ایران نے ’چند گھنٹوں‘ میں 2015 میں عالمی طاقتوں سے کیے گئے معاہدے کے برخلاف یورینیم افزودہ کرنے کی حد سے تجاوز کرنے کا اعلان کیا تھا۔ایرانی ایٹمی ایجنسی کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا تھا کہ نئی سطح پر یورینیم افزودہ کرنے سے متعلق تکنیکی تیاریاں چند گھنٹوں میں مکمل ہوجائیں گی اور 3.67 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ کی جائے گی۔نائب وزیر خارجہ عباس اراغچی نے کہا کہ تہران ہر 60 دن بعد معاہدے پر عمل درآمد سے واپسی کو جاری رکھے گا جب تک تمام فریقین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے معاہدے کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے۔اس سے قبل یکم جولائی کو ایران کی نیم سرکاری نیوز

ایجنسی ‘فارس’ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تہران نے یورینیم کی افزودگی کی 2015 کے جوہری معاہدے میں طے کی گئی 300 کلوگرام کی حد پار کرلی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ایران نے اعلان کیا تھا کہ 27 جون سے عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدے میں یورینیم افزودگی کی طے شدہ حد سے تجاوز کر جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…