بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کابل میں زورداردھماکا اورفائرنگ سے 40افرادہلاک،68زخمی،سیکیورٹی اہلکاراور صحافیوں کے علاوہ سکول کے کئی بچے بھی شامل

datetime 1  جولائی  2019 |

کابل(این این آئی) افغان دارالحکومت کابل میں زوردار دھماکے اور بعدازاں شدید فائرنگ کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک اور 68 دیگر زخمی ہوگئے۔ جاں بحق اور زخمیوں میں افغان فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ و ملازمین‘ سیکیورٹی اہلکاراور صحافیوں کے علاوہ سکول کے کئی بچے بھی شامل ہیں۔ افغان سپیشل فورسز نے فوری کاروائی کرتے ہوئے علاقہ کو گھیرے میں لے کرجوابی کاروائی شروع کی اور دونوں طرف سے فائرنگ کا شدید تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری ؤ رہا۔

دھماکہ انتہائی طاقتور اور زوردار تھا جس سے پورا شہر گونج اْٹھا اور دھماکے کی آوزاد دور دور تک سنی گئی جبکہ کئی قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکہ کے بعددور دور سے آسمان کی طرف دھواں اْٹھتا دکھائی دیا۔ادھر طالبان نے بم دھماکے اور حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے پیر کے روز افغان وزارت دفاع کو نشانہ بنایا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ پیر کی صبح تقریباً9 بجے مقامی وقت کے مطابق کابل شہر کے حساس علاقہ پل محمودخان میں واقع افغان وزارت دفاع کی عمارت کے قریب بارود سے بھرے ٹرک کا زوردار دھماکہ کرایا گیا جس کے بعد کم از کم تین دہشت گردوں نے افغان وزرات دفاع سے متصل ایک سرکاری عمارت میں داخل ہوکر اندھدھند فائرنگ شروع کی۔ افغان سپیشل فورسز نے فوری کاروائی کرتے ہوئے علاقہ کو گھیرے میں لے کرجوابی کاروائی شروع کی اور دونوں طرف سے فائرنگ کا شدید تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری ؤ رہا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ انتہائی طاقتور اور زوردار تھا جس سے پورا شہر گونج اْٹھا اور دھماکے کی آوزاد دور دور تک سنی گئی جبکہ کئی قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکہ کے بعددور دور سے آسمان کی طرف دھواں اْٹھتا دکھائی دیا۔ بم دھماکہ میں کم از کم 34 افراد جاں بحق اور 68 دیگر زخمی ہوگئے جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ کا خدشہ بھی ظاہرکیا گیا ہے۔ادھر ایک سینئرافغان صحافی نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ میں 40 افراد جاں بحق اور 80 دیگر زخمی ہوگئے تاہم فوری طورپر سرکاری طورپرہلاکتوں کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

افغان فٹ بال فیڈریشن کے ترجمان شفیع شاداب کے مطابق فیڈریشن کے سربراہ یوسف کاگراپنے 15 ملازمین سمیت زخمی ہوگئے۔افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید اللہ مایارکے مطابق بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 9 بچوں سمیت 68 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں مقامی نجی ٹی وی کے تین صحافی بھی زخمی ہوگئے۔ جہاں پر دھماکہ ہوا وہاں نجی ٹی وی چینل اور فٹ بال فیڈڑیشن کے دفاترکے علاوہ غازی سٹیڈیم بھی قائم ہیں جبکہ صدارتی محل تقریبا ایک کلومیٹر دور واقع ہے۔ادھر طالبان نے بم دھماکے اور حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے پیر کے روز افغان وزارت دفاع کو نشانہ بنایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…