منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کابل میں زورداردھماکا اورفائرنگ سے 40افرادہلاک،68زخمی،سیکیورٹی اہلکاراور صحافیوں کے علاوہ سکول کے کئی بچے بھی شامل

datetime 1  جولائی  2019 |

کابل(این این آئی) افغان دارالحکومت کابل میں زوردار دھماکے اور بعدازاں شدید فائرنگ کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک اور 68 دیگر زخمی ہوگئے۔ جاں بحق اور زخمیوں میں افغان فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ و ملازمین‘ سیکیورٹی اہلکاراور صحافیوں کے علاوہ سکول کے کئی بچے بھی شامل ہیں۔ افغان سپیشل فورسز نے فوری کاروائی کرتے ہوئے علاقہ کو گھیرے میں لے کرجوابی کاروائی شروع کی اور دونوں طرف سے فائرنگ کا شدید تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری ؤ رہا۔

دھماکہ انتہائی طاقتور اور زوردار تھا جس سے پورا شہر گونج اْٹھا اور دھماکے کی آوزاد دور دور تک سنی گئی جبکہ کئی قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکہ کے بعددور دور سے آسمان کی طرف دھواں اْٹھتا دکھائی دیا۔ادھر طالبان نے بم دھماکے اور حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے پیر کے روز افغان وزارت دفاع کو نشانہ بنایا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ پیر کی صبح تقریباً9 بجے مقامی وقت کے مطابق کابل شہر کے حساس علاقہ پل محمودخان میں واقع افغان وزارت دفاع کی عمارت کے قریب بارود سے بھرے ٹرک کا زوردار دھماکہ کرایا گیا جس کے بعد کم از کم تین دہشت گردوں نے افغان وزرات دفاع سے متصل ایک سرکاری عمارت میں داخل ہوکر اندھدھند فائرنگ شروع کی۔ افغان سپیشل فورسز نے فوری کاروائی کرتے ہوئے علاقہ کو گھیرے میں لے کرجوابی کاروائی شروع کی اور دونوں طرف سے فائرنگ کا شدید تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری ؤ رہا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ انتہائی طاقتور اور زوردار تھا جس سے پورا شہر گونج اْٹھا اور دھماکے کی آوزاد دور دور تک سنی گئی جبکہ کئی قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکہ کے بعددور دور سے آسمان کی طرف دھواں اْٹھتا دکھائی دیا۔ بم دھماکہ میں کم از کم 34 افراد جاں بحق اور 68 دیگر زخمی ہوگئے جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ کا خدشہ بھی ظاہرکیا گیا ہے۔ادھر ایک سینئرافغان صحافی نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ میں 40 افراد جاں بحق اور 80 دیگر زخمی ہوگئے تاہم فوری طورپر سرکاری طورپرہلاکتوں کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

افغان فٹ بال فیڈریشن کے ترجمان شفیع شاداب کے مطابق فیڈریشن کے سربراہ یوسف کاگراپنے 15 ملازمین سمیت زخمی ہوگئے۔افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید اللہ مایارکے مطابق بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 9 بچوں سمیت 68 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں مقامی نجی ٹی وی کے تین صحافی بھی زخمی ہوگئے۔ جہاں پر دھماکہ ہوا وہاں نجی ٹی وی چینل اور فٹ بال فیڈڑیشن کے دفاترکے علاوہ غازی سٹیڈیم بھی قائم ہیں جبکہ صدارتی محل تقریبا ایک کلومیٹر دور واقع ہے۔ادھر طالبان نے بم دھماکے اور حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے پیر کے روز افغان وزارت دفاع کو نشانہ بنایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…