بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے  رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم

datetime 24  مئی‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)افغان طالبان کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے کیلی فورنیا کے شہری جان واکر لنڈھ کو ریاست انڈیانا کی جیل سے رہا کیا کردیا گیا۔لنڈھ افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دیکھا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جان واکر لنڈھ کو نومبر 2001 میں افغانستان کے ایک محاذ جنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لنڈھ کی رہائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔

اْن کا کہنا تھا کہ رہائی کا فیصلہ ناقابل فہم اور ضمیر کی آواز کے خلاف ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا تھا کہ لنڈھ بدستور امریکہ کیلئے ایک خطرہ ہے اور وہ اب بھی اس لڑائی میں یقین رکھتا ہے جس میں اس نے ایک عظیم امریکی اور سی آئی اے کے عظیم افسر کو ہلاک کر دیا تھا۔ مائیک پومیو نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی پریشان کن اور غلط ہے۔جان واکر لنڈھ کو افغانستان میں غیر قانونی طور پر طالبان کو مددفراہم کرنے پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے 17 سال کی سزا مکمل ہو چکی ہے۔نومبر 2001 میں افغانستان میں گرفتاری کے وقت لنڈھ کی عمر 20 سال تھی۔ لنڈھ نے نوعمری میں اسلام قبول کر لیا تھا اور اْس نے 2000 میں یمن جا کر عربی زبان سیکھی تھی جس کے بعد وہ افغانستان جا کر طالبان میں بھرتی ہو گیا۔لنڈھ کو افغانستان میں گرفتار کرنے کے بعد ایک قید خانے میں رکھا گیا جہاں سی آئی اے کے تفتیشی افسر مائیک سپین اس سے باز پرس کرتے رہے جنہیں قید خانے میں ہونے والی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد لنڈھ کو واپس امریکہ لایا گیا جہاں اْس نے استغاثہ کے ساتھ اعتراف جرم کا سمجھوتہ کر لیا اور تفتیش میں مدد دینے لگا۔اس وقت منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں اسے افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دکھایا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔لنڈھ کو رہا کرتے وقت امریکہ کے فیڈرل جج نے اس پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس کے کمپیوٹر اور دیگر انٹرنیٹ ذرائع میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کی نگرانی کی جائے گی، اسے دماغی صحت کے حوالے سے کونسلنگ کے عمل سے گزرنا ہو گا اور انتہاپسندی پر مبنی مواد رکھنے یا دیکھنے پر پابندی ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…