منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

نیویارک پولیس کا صدر دفتر اذان کی آواز سے گونج اٹھا

datetime 23  مئی‬‮  2019 |

واشنگٹن(سی پی پی )امریکا کے سب سے بڑے شہر نیو یارک کی پولیس کے صدر دفتر میں رواں ہفتے اذان کی آواز گونجی اور انتظامیہ سے طویل قانونی جنگ لڑ کر داڑھی رکھنے والے مسلمان پولیس افسر کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اذان نیو یارک پولیس میں شامل مسلم افسران کی ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی سالانہ افطار ڈنر میں دی گئی جس کے بعد شرکا نے روزہ افطار کرکے مغرب کی نماز

باجماعت ادا کی۔افطار ڈنر میں نیو یارک کی مسلم اور دیگر کمیونٹیز کی نمایاں شخصیات، انتخابی امیدواران اور نیویارکپولیس چیف سمیت اعلی افسران شریک ہوئے۔اس موقع پر اپنے خطاب میں نیو یارک پولیس ڈپارٹمنٹ (این وائے پی ڈی) کے چیف چیپلن ایون کاسٹر کا کہنا تھا کہ بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے تمام مذاہب کو مل کر ساتھ چلنا ہوگا۔ ان کے بقول نیو یارک پولیس کی یہی خوبصورتی ہے کہ اس میں تمام مذاہب کے افسران ایک ساتھ مل کر ایک خاندان کی طرح کام کرتے ہیں۔ تقریب سے خطاب میں مسلم پولیس آفیسرز سوسائٹی کے صدر کیپٹن عدیل رانا نے کہا کہ ماہِ رمضان میں افطار کا اہتمام ایک مذہبی فریضہ ہے اور امریکا میں اس فریضے کی ادائیگی میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں۔افطار عشائیے کے دوران نیویارک پولیس کے چیف نے داڑھی رکھنے کا حق حاصل کرنے کے لیے تین سال تک قانونی جنگ لڑنے والے پولیس افسر مسعود سید کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا۔ مسعود سید کو تین سال قبل داڑھی منڈوانے کا حکم ماننے سے انکار پر نیویارک پولیس سے برطرف کردیا گیا تھا۔ لیکن انھوں نے قانونی جنگ لڑ کر اپنا یہ آئینی حق حاصل کیا جس کے بعد نیویارک پولیس کے تقریبا 11 افسران نے داڑھی رکھ لی ہے۔افطار عشائیے میں موجود نیویارک بروکلین بورو کے صدر ایرک ایڈم نے مسلمان افسران کو مشورہ دیا کہ وہ شہری معاملات میں مسلم کمیونٹی کو آگے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…