منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

امریکہ ایران جنگ کے دھانے پر،خلیج فارس سے گزرنے والے مسافر طیاروں کے نشانہ بننے کا خدشہ‘زندگیا ں داؤ پر لگ گئیں،صورتحال کشیدہ

datetime 20  مئی‬‮  2019 |

دبئی (این این آئی)امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد ایئر سیفٹی کی وارننگ کے باوجود متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایئرلائنز نے معمول کے مطابق اپنے آپریشنز جاری رکھی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی سفارتکاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ خلیج فارس سے گزرنے والے مسافر طیارے خطے میں کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے ایرانی فوج کی جانب سے ‘غلطی یا غلط پہچان کی صورت میں نشانہ بنائے جاسکتے ہیں۔

اتحاد ایئرویز، الامارات اور فلائی دبئی نے اتوار کے روز بتایا کہ انہوں نے اپنی پرواز کے منصوبوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جبکہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھ رہے ہیں۔الامارات کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے فلائیٹ آپریشنز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، ہم متعلقہ متحدہ عرب امارات اور عالمی حکام سے رابطے میں ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ایئر لائن نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے آپریشنز کی حفاظت سب سے اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔اتحاد کا کہنا تھا کہ وہ بھی یو اے ای کے جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور عالمی سطح پر ایئر نیوی گیشن سروس فراہم کرنے والے ادارے سے رابطے میں ہیں۔فلائی دبئی کے ترجمان نے کہا کہ پائلٹ بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ راستوں پر جہاز اڑا رہے ہیں، ہمیں خدشات کے بارے میں علم ہے اور ہم صورتحال کا جائزہ لے کر ہمارے ریگولیٹر سے رابطہ جاری رکھیں گے۔سعودی عرب کے حکام کی جانب سے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ملک کی تیل کمپنی پر ڈرون حملے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل پر تیل بردار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان حملوں کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔خدشات میں کہا گیا کہ ایران کا مسافر طیارے کو نشانہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن کشیدگی کی صورتحال میں متعدد دور تک ہدف کا نشانہ بنانے والے اور جدید اینٹی ایئرکرافٹ کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں کی موجودگی میں غلطی یا غلط شناخت کرکے مسافر طیارے پر حملے ہونے کا خدشہ ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ طیاروں کے نیوی گیشن آلات کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس میں بغیر اطلاع دیے رابطہ منقطع کیا جاسکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…