پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بڑا بریک تھرو،امریکا اور طالبان تمام اہم معاملات پر رضامند ہوگئے، طالبان نے امریکہ کی خواہش تسلیم کرلی

datetime 29  جنوری‬‮  2019 |

کابل(این این آئی) افغان امن عمل کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ امریکا اور طالبان حکام افغانستان سے دہشت گردوں کو باہر نکالنے، تمام امریکی فوجیوں کے انخلا، جنگ بندی اور افغان ،طالبان مذاکرات جیسے تمام اہم معاملات پر راضی ہوگئے ہیں۔کابل میں امریکی اخبار کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس فریم ورک کا ایک مسودہ ہے جو معاہدے سے قبل وضع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اطمینان کے لیے

طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان کو کبھی بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں یا افراد کے لیے پلیٹ فارم بننے سے روکنے کے لیے جو ضروری ہے وہ کیا جائے۔علاوہ ازیں گزشتہ ہفتے دوحہ قطر میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں امریکی ٹیم کی قیادت کرنے والے زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی کو دوحہ میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا تھا۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ گزشتہ شب ہماری پیش رفت پر صدر اشرف غنی کو بریفنگ دی گئی، افغانستان میں امن امریکا کی اولین ترجیح ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کو تمام افغانوں سے شیئر کرنا چاہیے۔دوسری جانب افغان صدارتی دفتر نے زلمے خلیل زاد کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت کے دعوے کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی۔افغان حکام کے بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی اور ان کی کابینہ کو دوحہ مذاکرات پر بریفنگ دی لیکن ساتھ ہی بتایا کہ انہیں دیے گئے ان کے انٹرویو کے کچھ نکات سے اختلاف کیا۔بیان میں کہا گیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی نے طالبان کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت کی لیکن اس معاملے پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔افغان حکام کے بیان میں کہا گیا کہ طالبان کی جانب سے افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا

لیکن اس معاملے پر بھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔تاہم زلمے خلیل زاد نے انٹرویومیں کہا کہ امریکا اور طالبان کے نمائندوں نے یہ اعتماد محسوس کیا کہ مذاکرات صحیح سمت میں جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کافی اعتماد محسوس کیا کہ ہمیں اسے سامنے لانے کی ضرورت ہے اور تفصیلات پر کام کرنا بھی ضروری ہے۔سینئر امریکی حکام نے بتایا کہ طالبان کے وفد نے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے امریکی اصرار اور کسی حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر جنگ بندی پر رضا مند ہونے سے متعلق اپنی قیادت سے مشاورت کے لیے وقت مانگا۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے طالبان کو واضح کیا کہ تمام زیر بحث آنے والے معاملات ایک پیکج ڈیل کے حصے کے طور پر منسلک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…