پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

عراقی سائنسدان داعش کا کیمیائی بم سازبن گیا،بموں کی تیار میں مددکااعتراف

datetime 27  جنوری‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراق میں زیرحراست ایک کیمیائی سائنسدان نے انتہائی خطرناک گروپ داعش کے ساتھ کام کرنے اور تنظیم کو کیمیائی بموں کی تیاری میں مدد فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق 49 سالہ سلیمان العفاری عراق میں حکومت کا سرکاری ملازم تھا۔

مگر 2014ء کو اس نے موصل میں قبضہ کرنے والی داعش کا ساتھ دیا۔ اس نے داعش کو پیش کش کی کہ وہ اسے اپنے ساتھ ملازمت پر رکھیں، وہ داعشی جنگجوؤں کو کیمیائی گیس کے ذریعے بم بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔رپورٹ کے مطابق 49سال کی عمر میں سلیمان العفاری نے داعش کے ساتھ کام شروع کیا اور مسلسل 15 مہینوں تک داعش کو مہلک کیمیائی گیس کی مدد سے بم بنا کردیتا رہا۔ اسے امریکی فوج نے 2016ء میں حراست میں لیا اور اس پر داعش کے ساتھ تعاون کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ عراق کی ایک عدالت نے اسے داعش سے تعاون کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے اور وہ اب اربیل جیل میں سزائے موت پرعمل درآمد کا منتظر ہے۔گرفتاری کے بعد تفتیش کاروں کے سامنے بیان دیتے ہوئے العفاری نے داعش کے ساتھ تعاون کا جواز پیش کرنے کے لیے کہا کہ جب داعش کے جنگجوؤں نے موصل پر قبضہ کرکے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی تو تنظیم کے ساتھ تنخواہ کے لیے کام کرنا اس کی مجبوری بن گئی تھی۔ اگر وہ داعش کے ساتھ کام نہ کرتا اسے ان سے مار دیا جاتا۔العفاری ان قلیل افراد میں سے ایک ہے جنہوں نے داعش کے ساتھ کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں مدد کی۔ تاہم وہ اس اعتبار سے بدقسمت ہے کہ اسے زندہ پکڑ لیا گیا۔ دوران تفتیش اس نے اعتراف کیاکہ وہ ‘سیرین’ گیس کی مدد سے کیمیائی بم بنانے میں داعش کی مدد کرتا رہا۔ یہ مہلک گیس پہلی عالمی جنگ کے دوران استعمال کی گئی تھی جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…