اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

عراقی سائنسدان داعش کا کیمیائی بم سازبن گیا،بموں کی تیار میں مددکااعتراف

datetime 27  جنوری‬‮  2019 |

بغداد(این این آئی)عراق میں زیرحراست ایک کیمیائی سائنسدان نے انتہائی خطرناک گروپ داعش کے ساتھ کام کرنے اور تنظیم کو کیمیائی بموں کی تیاری میں مدد فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق 49 سالہ سلیمان العفاری عراق میں حکومت کا سرکاری ملازم تھا۔

مگر 2014ء کو اس نے موصل میں قبضہ کرنے والی داعش کا ساتھ دیا۔ اس نے داعش کو پیش کش کی کہ وہ اسے اپنے ساتھ ملازمت پر رکھیں، وہ داعشی جنگجوؤں کو کیمیائی گیس کے ذریعے بم بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔رپورٹ کے مطابق 49سال کی عمر میں سلیمان العفاری نے داعش کے ساتھ کام شروع کیا اور مسلسل 15 مہینوں تک داعش کو مہلک کیمیائی گیس کی مدد سے بم بنا کردیتا رہا۔ اسے امریکی فوج نے 2016ء میں حراست میں لیا اور اس پر داعش کے ساتھ تعاون کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ عراق کی ایک عدالت نے اسے داعش سے تعاون کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے اور وہ اب اربیل جیل میں سزائے موت پرعمل درآمد کا منتظر ہے۔گرفتاری کے بعد تفتیش کاروں کے سامنے بیان دیتے ہوئے العفاری نے داعش کے ساتھ تعاون کا جواز پیش کرنے کے لیے کہا کہ جب داعش کے جنگجوؤں نے موصل پر قبضہ کرکے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی تو تنظیم کے ساتھ تنخواہ کے لیے کام کرنا اس کی مجبوری بن گئی تھی۔ اگر وہ داعش کے ساتھ کام نہ کرتا اسے ان سے مار دیا جاتا۔العفاری ان قلیل افراد میں سے ایک ہے جنہوں نے داعش کے ساتھ کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں مدد کی۔ تاہم وہ اس اعتبار سے بدقسمت ہے کہ اسے زندہ پکڑ لیا گیا۔ دوران تفتیش اس نے اعتراف کیاکہ وہ ‘سیرین’ گیس کی مدد سے کیمیائی بم بنانے میں داعش کی مدد کرتا رہا۔ یہ مہلک گیس پہلی عالمی جنگ کے دوران استعمال کی گئی تھی جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…