اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ایران یرغمالی دہشت گردی کی مذموم مہم سے باز آئے،امریکی وزیرخارجہ کا انتباہ

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران نے متعدد امریکیوں کو بے قصور ہونے کے باوجود یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایران سے قیدیوں کو یرغمال بنائے جانے کی دہشت گردی کا سلسلہ بند کیا جائے ،عرب ٹی وی کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی متعدد ٹویٹس میں پومپیو نے کہا کہ 40 سال قبل ایرانی انتہا پسندوں نے

444 دن تک مسلسل 52 امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنائے رکھا گیا۔ آج بھی ایران نے امریکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے،انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ، صدر حسن روحانی اور وزیرخارجہ جواد ظریف کو چاہیے کہ وہ امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے کی دہشت گردی سے باز آئے اور زیرحراست پوپ لیفنسن، شیوی وانگ سمیت دیگر تمام امریکیوں اور غیرملکی شہریوں کو رہا کرے۔خیال رہے کہ امریکی شہری لیفنسن 9 مارچ 2007ء کو پراسرار طورپر ایران کے جزیرہ کیش سے لاپتا ہوگیا تھا۔ وہ است بچوں کا باپ ہے اور ذیابیطس کا مریض ہے۔ اسے ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے حراست میں لے لیا رکھا ہے۔39 سالہ وانگ کو جولائی 2016ء کو گرفتار کیا گیا اور اسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ایران میں یرغمال بنائے گئے شہریوں میں لبنان کے نزار زکا کو حسن روحانی کی طرف سے ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت پر مدعو کرنے کے بعد تہران میں گرفتار کرلیا گیا۔ اسے امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ایران میں کئی دوسرے ملکوں کے شہری بھی زیرحراست ہیں جن میں احمد رضا جلالی بھی شامل ہیں۔ جلالی جوہری سائسندانوں کے قتل میں ملوث ہونے کیالزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔آسٹریا کی شہریت رکھنے والے کامران قادری کو بھی ایرانی ٹیکنالوجی کے راز افشاء کرنے کے الزام میں 10 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…