ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

سوڈان : مظاہرے میں ہلاک ہونے والے شخص کا جنازہ نئے احتجاج میں تبدیل

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

خرطوم(این این آئی )سوڈان میں مظاہروں میں شہید ہونے والے ایک شخص کے جنازے کا جلوس مقتول کا لاشہ لے کر احتجاج میں شامل ہوگئے۔عرب ٹی وی کے مطابق سوڈانی پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں مظاہرے میں شامل ایک شخص دم توڑ گیا جس کے باعث ملک میں پہلے سے حکومت کے خلاف جاری عوامی غم وغصے میں مزید اضافہ ہو گیا۔جمعرات کے بعد سے اب تک سوڈان میں ہونے والے

پر تشدد احتجاج میں مزید تین افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے تینوں افراد کا تعلق دارالحکومت خرطوم سے ہے۔گزشتہ روز خرطوم میں ہزاروں افراد حکومت مردہ باد کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے صدر عمرالبشیر کی برطرفی کے حق میں نعرے لگائے۔اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس، دھاتی گولیوں اور ہوائی فائرنگ کی۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سوڈانی پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔ مظاہرین 60 سالہ مقتول احتجاجی کے گھر پر جمع تھے، اس موقع پر کم سے کم 5 ہزار افراد نے مقتول کے جنازے میں شرکت اور حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک احتجاجی معاویہ عثمان دم توڑ گیا جس کے بعد عوام میں حکومت کے خلاف مزید سخت غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔خیال رہے کہ سوڈان میں گذشتہ ماہ سے جاری احتجاج میں مسلسل شدت آ رہی ہے۔ صدر البشیر نے پولیس کو مظاہرین پر گولی چلانے سے گریز کی ہدایت کی ہے مگر اس کے باوجود آئے روز مظاہرین کی ہلاکتوں کی اطلاعات آ رہی ہیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق دارالحکومت خرطوم کے علاوہ کئی دوسرے شہروں میں بھی حکومت کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔ ام درمان میں نکالی گئی ایک ریلی میں بھی ہزاروں افراد نے شرکت کی اور حکومت سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…