ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کابل کے حساس ترین علاقے میں صرف تین افرادکا حملہ، بے دریغ قتل عام ،43 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی،بڑی تعداد میں زخمی

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

کابل(این این آئی) افغان دارالحکومت کابل کے حساس علاقے میں یکے بعد دیگر خودکش دھماکوں اور مسلح حملہ آوروں کی سرکاری عمارت میں داخل ہوکر شدید فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد جاں بحق اور10 دیگر زخمی ہوگئے۔ افغان وزارت داخلہ کے ڈپٹی ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق پیر کے روزمقامی وقت سہ پہر تقریبا تین بجے بعض مسلح حملہ آوروں نے کابل شہر میں واقع منسٹری آف پبلک ورکس کی عمارت کے گیٹ کے باہرپہلے بارودی سے بھری گاڑی کا دھماکہ کیا

جس کے بعدایک حملہ آور نے عمارت کے اندرداخل ہوکر خودکو دھماکہ سے اْڑادیا جبکہ جدید اسلحہ سے لیس تین دہشت گردوں نے سرکاری عمارت میں گھس کر اندھادھند فائرنگ کرکے سینکڑوں سرکاری ملازمین کو یرغمال بنالیا۔بتایاجاتا ہے کہ منسٹری آف پبلک ورکس کی عمارت میں محنت‘ سماجی امور‘ شہدااور معذور افراد سمیت کئی اہم دفاتر قائم ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی افغان سیکیورٹی فورس کے اہلکار موقعہ پر پہنچ گئے اورعمارت کا محاصرہ کرکے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں جہاں افغان فورسزاور حملہ آوروں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ تقریبا دس گھنٹوں تک جاری رہا ۔ محکمہ صحت کے ترجمان واحیدمجروح ‘ سینئر افغان صحافی اور افغان ٹی وی کے مطابق دھماکوں اورفائرنگ کے نتیجے میں کم از کم43 افراد ہلاک اور 10دیگر زخمی ہوگئے تاہم وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کے مطابق 28افرادہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں عمارت کی حفاظت پر مامور محافظین اور سرکاری ملازمین شامل ہیں ۔ زخمیوں کو قریبی وزیراکبرہسپتال منتقل کیاگیا۔ کئی ملازمین بالائی منزل سے چھلانگ لگانے کے نتیجے میں زخمی ہوگئے۔محکمہ داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کے مطابق تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے

جبکہ ساڑھے تین سو سے زائد سرکاری ملازمین کو بحفاظت باہرنکال دیا گیا ہے۔ دریں اثناء کابل میں کرائم برانچ کے سربراہ جنرل سلیم الماس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اور 30 شہری ہلاک ہوگئے ۔اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لئے فوجی ہیلی کاپٹروں نے عمارت پر نیچے پروازیں کیں۔ اطلاعات کے مطابق دوطرفہ فائرنگ دس گھنٹوں تک جاری رہی جبکہ عمارت کے اندر سے وقفہ وقفہ سے بم دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے رات گئے تقریباً ایک بجے عمارت کو کلیئرکردیا۔اب تک کسی گروپ نے واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…