اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پاکستانیوں سمیت ان غیر ملکیوں کو نہیں نکالیں گے جو۔۔۔!!! جرمنی نے تارکین وطن کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمنی کو ہنرمند مزدوروں کی اشد ضرورت ہے اور اسی لیے سیاسی پناہ کے ایسے کئی درخواست گزار ہیں، جنہیں ان کی ہنرمندی کی وجہ سے جرمنی میں قبول کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی میں دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر ہانز پیٹر وولزائفر نے کہاکہ جرمنی میں بہت سے تارکین وطن کو ان کی ہنرمندی کی وجہ سے قبول کیا گیا ہے۔

جب کہ ملک میں ہنرمند مزدوروں کی قلت کی وجہ سے بہت سے تارکین وطن، جو اس وقت جرمنی میں موجود ہیں اور مختلف شعبہ ہائے جات کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی جگہ موجود ہے۔وولزائفر کے مطابق جرمنی کو ایسے تارکین وطن کی اشد ضرورت ہے، جو جرمن زبان جانتے ہیں، معاشرتی انضمام میں مسائل کے شکار نہ ہوں اور ہنرمند ہوں، ایسے افراد کو ہم کیوں واپس بھیجیں گے؟ واپس انہیں بھیجا جا رہے ہے، جو ہنرمند نہیں اور جن کا معاشرتی انضمام آسان نہیں۔ ایسے افراد ہمیں جن کی ضرورت ہے، انہیں جرمنی میں رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اگر کوئی راستہ اپنایا جاتا ہے، یعنی ہنرمند افراد کو اگر جرمنی سے نکالا جاتا ہے تو یہ ایک پاگل پن ہو گا۔دست کاری کی صنعت رواں برس سیاسی پناہ کے 16 ہزار متلاشی افراد کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کر رہی ہے، جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد گیارہ ہزار تھی۔دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر وولزائفر کا مزید کہنا تھاکہ میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے سے بتا سکتا ہوں اور یہ بات میں نے سنی بھی ہے کہ یہ تارکین وطن دست کاری کی صنعت میں نہایت دل چسپی سے کام کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اسے نادر موقع سمجھتے ہیں اور یہ اس کا فائدہ اٹھانا اور جرمنی میں بسنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…