ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں سمیت ان غیر ملکیوں کو نہیں نکالیں گے جو۔۔۔!!! جرمنی نے تارکین وطن کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمنی کو ہنرمند مزدوروں کی اشد ضرورت ہے اور اسی لیے سیاسی پناہ کے ایسے کئی درخواست گزار ہیں، جنہیں ان کی ہنرمندی کی وجہ سے جرمنی میں قبول کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی میں دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر ہانز پیٹر وولزائفر نے کہاکہ جرمنی میں بہت سے تارکین وطن کو ان کی ہنرمندی کی وجہ سے قبول کیا گیا ہے۔

جب کہ ملک میں ہنرمند مزدوروں کی قلت کی وجہ سے بہت سے تارکین وطن، جو اس وقت جرمنی میں موجود ہیں اور مختلف شعبہ ہائے جات کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی جگہ موجود ہے۔وولزائفر کے مطابق جرمنی کو ایسے تارکین وطن کی اشد ضرورت ہے، جو جرمن زبان جانتے ہیں، معاشرتی انضمام میں مسائل کے شکار نہ ہوں اور ہنرمند ہوں، ایسے افراد کو ہم کیوں واپس بھیجیں گے؟ واپس انہیں بھیجا جا رہے ہے، جو ہنرمند نہیں اور جن کا معاشرتی انضمام آسان نہیں۔ ایسے افراد ہمیں جن کی ضرورت ہے، انہیں جرمنی میں رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اگر کوئی راستہ اپنایا جاتا ہے، یعنی ہنرمند افراد کو اگر جرمنی سے نکالا جاتا ہے تو یہ ایک پاگل پن ہو گا۔دست کاری کی صنعت رواں برس سیاسی پناہ کے 16 ہزار متلاشی افراد کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کر رہی ہے، جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد گیارہ ہزار تھی۔دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر وولزائفر کا مزید کہنا تھاکہ میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے سے بتا سکتا ہوں اور یہ بات میں نے سنی بھی ہے کہ یہ تارکین وطن دست کاری کی صنعت میں نہایت دل چسپی سے کام کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اسے نادر موقع سمجھتے ہیں اور یہ اس کا فائدہ اٹھانا اور جرمنی میں بسنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…