ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

پاکستانیوں سمیت ان غیر ملکیوں کو نہیں نکالیں گے جو۔۔۔!!! جرمنی نے تارکین وطن کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمنی کو ہنرمند مزدوروں کی اشد ضرورت ہے اور اسی لیے سیاسی پناہ کے ایسے کئی درخواست گزار ہیں، جنہیں ان کی ہنرمندی کی وجہ سے جرمنی میں قبول کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی میں دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر ہانز پیٹر وولزائفر نے کہاکہ جرمنی میں بہت سے تارکین وطن کو ان کی ہنرمندی کی وجہ سے قبول کیا گیا ہے۔

جب کہ ملک میں ہنرمند مزدوروں کی قلت کی وجہ سے بہت سے تارکین وطن، جو اس وقت جرمنی میں موجود ہیں اور مختلف شعبہ ہائے جات کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی جگہ موجود ہے۔وولزائفر کے مطابق جرمنی کو ایسے تارکین وطن کی اشد ضرورت ہے، جو جرمن زبان جانتے ہیں، معاشرتی انضمام میں مسائل کے شکار نہ ہوں اور ہنرمند ہوں، ایسے افراد کو ہم کیوں واپس بھیجیں گے؟ واپس انہیں بھیجا جا رہے ہے، جو ہنرمند نہیں اور جن کا معاشرتی انضمام آسان نہیں۔ ایسے افراد ہمیں جن کی ضرورت ہے، انہیں جرمنی میں رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اگر کوئی راستہ اپنایا جاتا ہے، یعنی ہنرمند افراد کو اگر جرمنی سے نکالا جاتا ہے تو یہ ایک پاگل پن ہو گا۔دست کاری کی صنعت رواں برس سیاسی پناہ کے 16 ہزار متلاشی افراد کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کر رہی ہے، جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد گیارہ ہزار تھی۔دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر وولزائفر کا مزید کہنا تھاکہ میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے سے بتا سکتا ہوں اور یہ بات میں نے سنی بھی ہے کہ یہ تارکین وطن دست کاری کی صنعت میں نہایت دل چسپی سے کام کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اسے نادر موقع سمجھتے ہیں اور یہ اس کا فائدہ اٹھانا اور جرمنی میں بسنا چاہتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…