ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم پاکستانی بس ڈرائیور کا بیٹا؟ سب کی نظریں پارلیمنٹ پر لگ گئیں

datetime 12  دسمبر‬‮  2018 |

لندن (این این آئی) بریگزٹ پر پارلیمانی رائے شماری ملتوی کرنے کے فیصلے نے برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی سیاسی ساکھ جس طرح متاثر کی، کنزرویٹو پارٹی کے کئی ارکان ان کی جگہ لینے کیلئے پر تول رہے ہیں۔برطانوی میڈیا پر وزارت عظمیٰ کے جن امیدواروں کے نام گردش کر رہے ہیں۔

ان میں پاکستانی نژاد ساجد جاوید بھی شامل ہیں۔ پاکستانی بس ڈرائیور کا 49 سالہ سابق بینکر بیٹا ساجد جاوید میرٹ پر یقین رکھنے والے کثیر ثقافتی جدید برطانیہ کا چہرہ ہے۔ ان کے والدین 1960 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہوئے، ان کا خاندان برسٹل میں آباد ہوا، یونیورسٹی آف ایگزیٹر سے انہوں نے اکنامکس اور سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ساجد کی پسندیدہ شخصیت سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر ہیں، جن کا پورٹریٹ آج بھی ان کے کمرے کی دیوار پر آویزاں ہے۔ ساجد نے بطور بینکر نیویارک، لندن اور سنگاپور میں کام کیا، ان کے مطابق ڈوشے بینک کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے 2009 میں جب انہوں نے ملازمت چھوڑی، ان کی سالانہ آمدنی 30 لاکھ پاؤنڈ تھی۔ رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں جونیئر وزیر خزانہ مقرر ہوئے، وہ سیکرٹری کلچر اور تجارت کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔ وزیر اعظم تھریسامے نے انہیں مقامی حکومت، کمیونٹیز اور ہاؤسنگ کا سیکرٹری مقرر کیا۔جاوید نے 2016 میں یورپی یونین کے حق میں ووٹ دیا تھا، مگر بعد میں بریگزٹ کاز کی حمایت کی۔ اپریل میں بطور وزیر داخلہ تقرری کے بعد انہوں نے کیربین تارکین کے بچوں کیساتھ سلوک کے ونڈ رش سکینڈل کی وجہ سے کافی نیک نامی کمائی۔ ان کی اہلیہ لارا برطانوی ہیں، دونوں کے چار بچے ہیں۔ غیر مسلم سے شادی کرنے پر انہیں نفرت انگیز ای میلز موصول ہوئیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی مذہب پر عمل نہیں کرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…