ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سے چند ہزار ،لیکن امریکہ کی وجہ سے کس اسلامی ملک سے 7لاکھ افغانی واپس چلے گئے؟حیران کن صورتحال

datetime 6  دسمبر‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی)مہاجرین کے بین الاقوامی ادارے نے کہاہے کہ لاکھوں افغان مہاجرین ایران سے واپس افغانستان لوٹ چکے ہیں۔ ان بے گھر افغان شہریوں کو ایران کی مشکل معاشی صورت حال کا سامنا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ریفیوجی ادارے نے بتایا کہ رواں برس پہلی دسمبر تک سات لاکھ سے زائد افغان مہاجرین نے ایران سے واپسی اختیار کی ہے۔

ان افغان شہریوں کی اپنے وطن واپسی کی بنیادی وجہ ایران کی اقتصادی مشکلات ہیں۔ رواں برس مئی سے امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد سے ایرانی اقتصادیات مسلسل سست روی کا شکار ہو چکی ہے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن برائے مہاجرین نے واضح کیا کہ پہلی دسمبر تک پاکستان اور ایران سے واپس جانے والے افغان مہاجرین کی تعداد سات لاکھ باون ہزار تین سو پچیس ہے۔ ان میں صرف ایران سے سات لاکھ اکیس ہزار چھ سو تینتیس افغان مہاجرین نے واپسی اختیار کی۔ اس طرح پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین چند ہزار ہیں۔اس بین الاقوامی ادارے کے مطابق یہ افغان مہاجرین وہ ہیں، جنہوں نے خود کو رجسٹر نہیں کروایا تھا۔ اس ادارے نے ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی کی وجہ ملکی اقتصادی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ سیاسی بے چینی کو بھی قرار دیا۔اس کے علاوہ ایک دوسری بڑی وجہ ایرانی کرنسی میں غیرمعمولی کمی واقع ہونا ہے۔ دوسری طرف ایرانی میڈیا کے مطابق افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ترکی میں داخل ہونے کی کوشش میں ہے۔مہاجرین کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق جس بھی ملک میں افغان مہاجرین ہیں، وہ اپنی کمائی میں سے ایک حصہ اپنے خاندان کو ارسال کرنے کو اپنی معاشرتی ذمہ داری خیال کرتے ہیں۔ ایران میں مشکل معاشی حالات کے بعد افغان مہاجرین کے لیے اب بہت مشکل ہو گیا تھا کہ وہ محنت مزدوری سے جو کمائی کریں، اْس پر اپنا گزارہ کرنے کے ساتھ کچھ رقم بچا سکیں۔مہاجرین کے ادارے نے یہ بھی بتایا کہ ایران کی کمزور ہوتی معیشت کی وجہ سے لیبر مارکیٹ میں افغان مہاجرین کو روزگار ملنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو رہا تھا۔ دوسری جانب افغانستان کی اندرونی صورت حال بھی زبوں حالی کا شکار ہے اور خاص طور پر چند صوبوں کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے جس میں ہرات، بادغیس اور غور صوبے نمایاں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…