اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بھارت میرے باپ کا ملک ہے، کوئی مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتا ٗ اسد الدین اویسی نے ہندوانتہا پسندوں کو آگ لگادی ، دھماکہ خیز اعلان

datetime 3  دسمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم ایم) کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ بھارت میرے باپ (والد) کا ملک ہے، کوئی مجھے اسے چھوڑنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ان کا یہ بیان اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کے بیان کے رد عمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) تلنگانہ میں اقتدار میں آگئی تو اسد الدین اویسی کو یہاں سے بھاگنا پڑیگا۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ نے انتخابات کے سلسلے میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی تلنگانہ میں اقتدار میں آجاتی ہے تو میں اسد الدین اویسی کو یقین دلاتا ہوں کہ انہیں یہاں سے بھاگنا پڑے گا جس طرح نظام کو حیدرآباد سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا تھا۔اسد الدین اویسی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخی حقائق سے لاعلم ہیں۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ یوگی ادتیا ناتھ کی سوچ کے برعکس نظام میر عثمان علی خان حیدرآباد سے فرار نہیں ہوئے تھے، انہیں راج پر امکھ بنایا گیا تھا اور چین کے ساتھ حالتِ جنگ میں انہوں نے بھارت کو اپنا سونا دینے کی پیشکش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسی دھمکیوں اور پروپیگنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کو اپنے حلقے کی پرواہ کرنی چاہیے جہاں ہر سال ڈیڑھ سو بچے خطرناک انفیکشن کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یوگی ادتیا ناتھ کو اپنے عہدے کا خیال کرکے ایک وزیراعلیٰ کی طرح بات کرنی چاہیے۔اسد الدین اویسی کے چھوٹے بھائی نے ان کے بیان کی حمایت کی اور کہا کہ ’ ہم بھاگنے والوں میں سے نہیں، ہماری ایک ہزار نسلیں یہاں رہیں گی۔انہوں نے یوگی ادتیا ناتھ کے حالیہ بیان پر بھی جواب دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ کانگریس کو مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت ہے، ہمارے لیے بجرنگ بلی کافی ہے۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کانگریس رہنما کمال ناتھ کی ویڈیو پر تنقید کی تھی جس میں انہوں نے مسلمانوں سے کانگریس کوووٹ دینے کا کہا تھا۔اس حوالے سے اسد الدین اویسی کا کہناتھا کہ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ نے ’ تمام حدیں پار کردی ہیں‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…