ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میرے باپ کا ملک ہے، کوئی مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتا ٗ اسد الدین اویسی نے ہندوانتہا پسندوں کو آگ لگادی ، دھماکہ خیز اعلان

datetime 3  دسمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم ایم) کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ بھارت میرے باپ (والد) کا ملک ہے، کوئی مجھے اسے چھوڑنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ان کا یہ بیان اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کے بیان کے رد عمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) تلنگانہ میں اقتدار میں آگئی تو اسد الدین اویسی کو یہاں سے بھاگنا پڑیگا۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ نے انتخابات کے سلسلے میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی تلنگانہ میں اقتدار میں آجاتی ہے تو میں اسد الدین اویسی کو یقین دلاتا ہوں کہ انہیں یہاں سے بھاگنا پڑے گا جس طرح نظام کو حیدرآباد سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا تھا۔اسد الدین اویسی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخی حقائق سے لاعلم ہیں۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ یوگی ادتیا ناتھ کی سوچ کے برعکس نظام میر عثمان علی خان حیدرآباد سے فرار نہیں ہوئے تھے، انہیں راج پر امکھ بنایا گیا تھا اور چین کے ساتھ حالتِ جنگ میں انہوں نے بھارت کو اپنا سونا دینے کی پیشکش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسی دھمکیوں اور پروپیگنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔اسد الدین اویسی نے کہا کہ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کو اپنے حلقے کی پرواہ کرنی چاہیے جہاں ہر سال ڈیڑھ سو بچے خطرناک انفیکشن کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یوگی ادتیا ناتھ کو اپنے عہدے کا خیال کرکے ایک وزیراعلیٰ کی طرح بات کرنی چاہیے۔اسد الدین اویسی کے چھوٹے بھائی نے ان کے بیان کی حمایت کی اور کہا کہ ’ ہم بھاگنے والوں میں سے نہیں، ہماری ایک ہزار نسلیں یہاں رہیں گی۔انہوں نے یوگی ادتیا ناتھ کے حالیہ بیان پر بھی جواب دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ کانگریس کو مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت ہے، ہمارے لیے بجرنگ بلی کافی ہے۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کانگریس رہنما کمال ناتھ کی ویڈیو پر تنقید کی تھی جس میں انہوں نے مسلمانوں سے کانگریس کوووٹ دینے کا کہا تھا۔اس حوالے سے اسد الدین اویسی کا کہناتھا کہ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ نے ’ تمام حدیں پار کردی ہیں‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…