ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

روسی فوج نے خلائی مخلوق کی اُڑن طشتری مار گرائی، جواب میں خلائی مخلوق نے ایسا کام کر دیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا، امریکی خفیہ ایجنسی کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات سے خلائی مخلوق کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف سامنے آئے ہیں، ڈیلی سٹار کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں روسی افواج نے خلائی مخلوق کی ایک اڑن طشتری مار گرائی تھی، اور اس کے جواب میں روسی فوجیوں پر خلائی مخلوق نے حملہ کیا اور روس کے کئی فوجی اس حملے میں پتھر کے بن گئے،

دستاویزات کے مطابق یہ واقعہ انٹارکٹکا میں واقعے ایک روسی فوجی اڈے پر پیش آیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹارکٹکا میں واقع کئی فوجی اڈوں پر سرخ، سبز اور زرد رنگ کی اڑن طشتریاں منڈلاتی رہیں۔ ان طشتریوں میں سے ایک بہت زیادہ نیچے آ گئی جسے روسی فوجیوں نے نشانہ بنایا اور یہ طشتری فوجیوں کے قریب ہی زمین پر گر گئی اور اس میں سے پانچ خلائی مخلوق کے افراد نکلے، رپورٹ کے مطابق ان کے قد چھوٹے، سر بہت بڑے اور بڑی بڑی کالی آنکھیں تھیں، یہ پانچوں باہر آنے کے بعد ایک دوسرے کے قریب آئے اور یکجا ہو کر ایک گول سی چیز بن گئے پھر اس چیز سے تیز آوازیں آنا شروع ہو گئیں اور اس کی رنگت سفید ہو گئی چند سیکنڈ میں یہ گول وجود بہت ہی بڑا ہو گیا اور دھماکے سے پھٹ گیا اس میں انتہائی تیز لائٹ نکلی، اس موقع پر موجود 23 فوجی جو یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے پتھر کے بن گئے۔ رپورٹ کے مطابق دو فوجی جو ایک آڑ کے پیچھے تھے اور روشنی کی زد میں نہ آ سکے وہ بچ گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے بعد خلائی مخلوق کی باقیات اور پتھر بن جانے والے فوجیوں کو ماسکو میں واقع ایک خفیہ سائنسی تحقیقاتی ادارے میں منتقل کر دیا گیا۔ 1991ء میں اس وقت روسی صدر میخائل گورچوف تھے انہوں نے اس واقعہ کی دستاویزات ضائع کر دی تھیں لیکن سی آئی اے ان کی کاپی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق میخائل گوربا چوف نے اس حوالے سے بیان بھی دیا تھا کہ خلائی مخلوق واقعی وجود رکھتی ہے اور ہمیں اسے بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…