ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

خاشقجی کا قتل ،امریکہ کا بڑا یوٹرن،حیران کن اعلان کردیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی ہلاکت سے متعلق حکومت کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار کا جوموقف سامنے آیا ہے وہ غیر مصدقہ ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں ٹرمپ انتظامیہ نے اِن رپورٹوں سے اختلاف کیا جن میں کہا گیا کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خاشقجی کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایسی رپورٹوں کو غلط قرار دیا ہے۔سی آئی اے کی سربراہ گینا ہسپال اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹیلی فون پر خاشقجی کیس سے متعلق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بریف کیا، جب وہ کیلی فورنیا جا رہے تھے۔محکمہ خارجہ نے یہ بیان جاری کیا جس سے چند ہی منٹ قبل صدارتی ترجمان سارا سینڈرز نے کہا کہ ٹرمپ کو سی آئی اے پر اعتماد ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت ہلاکت کے ذمے دار تمام لوگوں کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کے عزم پر قائم ہے، اور یہ کہ کئی ایک سوالات جواب طلب ہیں۔سی آئی اے کے اندازے کے مطابق جسے امریکی اخبار نے رپورٹ کیا، سعودی عرب کی رپورٹ سے متضاد ہے۔ سعودی استغاثہ نے ایک روز قبل خاشقجی کی موت کے الزام سے ولی عہد کو برَی قرار دیا تھا۔امریکی حکام نے کہا کہ سی آئی اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ سعودی حکومت کے ایک طیارے میں 15 سعودی ایجنٹ استنبول گئے جہاں دو اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کو قتل کیا گیا، جہاں وہ ایک ترک خاتون سے مجوزہ شادی کے لیے درکار دستاویز اٹھانے کے لیے گئے تھے۔امریکی اخبار نے کہا کہ سی آئی اے متعدد انٹیلی جنس ذرائع کی اطلاعات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچی، جن میں شہزادے کے بھائی، خالد بن سلمان کا ٹیلی فون شامل ہے۔ اس ٹیلیفون کال میں خالد بن سلمان نے خاشقجی کو ترکی جانے کی تجویزدی تھی۔اس ٹیلی فون کال میں خالد نے خاشقجی سے کہا تھا کہ دستاویز لینے کے لیے وہ استنبول کے قونصل خانے جا سکتے ہیں، جہاں وہ محفوظ ہوں گے۔ اخبار کے مطابق یہ بات معلوم نہیں آیا خالد کو اس بات کا علم تھا کہ خشوگی کو ہلاک کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…