ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

17 سالہ افغان جنگ کا خاتمہ قریب پہنچ گیا، جو کام چین اور پاکستان مل کر نہ کر سکے روس نے کر دکھایا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ماسکو(نیوز ڈیسک) روس کی میزبانی میں 17 سالہ افغان جنگ کے خاتمے کے لیے دوروزہ امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جس میں امریکا، چین، پاکستان اور بھارت سمیت 12 ممالک کے وفد شریک ہیں۔روس امن مذاکرات کے لیے کافی پْرامید نظر آتا ہے، امریکا اور بھارت کو مذاکرات میں شرکت کے لیے راضی کرلینا ایک بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے اور عالمی قوتوں کے

ایک ساتھ کسی مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنے کی مثبت روایت کا آغاز ہوا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان اور طالبان کو 17 سال سے جاری افغان جنگ کو ختم کرنے کے لیے راضی کرنے اور کسی ممکنہ حل کی جانب پہلا قدم بڑھانے کے لیے روس نے کثیر الملک امن مذاکرات کا انعقاد کیا ہے۔روس کی جانب سے امن مذاکرات کے انعقاد کے اعلان کے بعد سے امریکا سمیت مختلف ممالک کی جانب سے امن مذاکرات کو ملتوی کرنے کے لیے دباوکا سامنا رہا ہے تاہم روس کے صدر پوٹن نے ان ممالک کو شرکت کے لیے راضی کرلیا۔طالبان کی جانب سے بھی 6 نومبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ قطر میں مقیم طالبان کے ایک وفد کو روس بھیجا جائے گا جو افغان جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پیش کرے گا اور طالبان کے نکتہ نظر کو دنیا کے سامنے لایا جائے گا۔روس امن مذاکرات کے لیے کافی پْرامید نظر آتا ہے، امریکا اور بھارت کو مذاکرات میں شرکت کے لیے راضی کرلینا ایک بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے اور عالمی قوتوں کے ایک ساتھ کسی مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنے کی مثبت روایت کا آغاز ہوا ہے۔واضح رہے کہ طالبان اور افغانستان کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر بھی کھولا گیا ہے جہاں امریکی فوج اور افغان حکومت کے اعلیٰ حکام نے طالبان نمائندوں سے گفت و شنید بھی کی تاہم اب تک حتمی نتیجے نہیں پہنچا جا سکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…