جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چینی فوجی دستے بھارتی حدود میں پھرداخل،چینی فوجیوں نے 14مرتبہ ایل اے سی عبور کی ، بھارتی ذرائع ابلاغ پھٹ پڑا، سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(آئی این پی) چینی فوجی دستے لداخ ریجن میں چین اور بھارت کے درمیان موجود لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی)عبور کرتے ہوئے ایک کلومیٹر تک بھارتی علاقے میں آ گئے۔تاہم بھارتی فوج کی طرف سے جب انہیں بتایا گیا کہ وہ بھارتی علاقے میں ہیں توچینی فوجی دستے واپس چلے گئے۔

اے این آئی نے بھارتی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین اور بھارت سرحد پر ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔دی بینگ ویلی کے مقامی افرادکے مطابق یہ واقع ارونا چل پردیش کے علاقے میں پیش آیا،تاہم جب ایک بھارتی فوجی افسر نے انہیں بتایا کہ وہ ایل اے سی عبور کر کے بھارتی علاقے میں آ گئے ہیں تو چینی فوجی واپس چلے گئے، حکام کے مطابق اگست اور اکتوبر میں بھی ایسے واقعات پیش آئے تھے ایک بار دو چینی ایم آئی۔17ہیلی کاپٹر بھی بھارتی فضائی حدود میں پانچ منٹ تک پرواز کرنے کے بعد واپس گئے تھے۔ یاد رہے اس علاقے میں چین اور بھارت کے درمیان کوئی مستقل سرحدی حد بندی نہیں ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ الزام عائد کرتے ہیں کہ چینی فوجی دستے اس علاقے میں اب تک14مرتبہ سے زائد بار ایل اے سی عبور کر چکے ہیں جبکہ چینی ذرائع ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ چینی فوجی دستے لداخ ریجن میں چین اور بھارت کے درمیان موجود لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی)عبور کرتے ہوئے ایک کلومیٹر تک بھارتی علاقے میں آ گئے۔تاہم بھارتی فوج کی طرف سے جب انہیں بتایا گیا کہ وہ بھارتی علاقے میں ہیں توچینی فوجی دستے واپس چلے گئے۔اے این آئی نے بھارتی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین اور بھارت سرحد پر ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔دی بینگ ویلی کے مقامی افرادکے مطابق یہ واقع ارونا چل پردیش کے علاقے میں پیش آیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…