جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی صدرٹرمپ کے ایک جملے سے دنیا نے اربوں ڈالر کھو دئیے،انہوں نے ایسا کیا کہاتھا؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی) حصص کی عالمی منڈیوں میں اربوں ڈالر کے فائدے یا نقصان کی وجہ بالعموم لمحوں میں آنے والی تبدیلیاں بنتی ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے کی وجہ امریکی صدر ٹرمپ بنے اور ان کے صرف ایک جملے سے عالمی معیشت اربوں ڈالر سے محروم ہو گئی۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اس واقعے کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بنے، جب انہوں نے اپنے قطعی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے بارے میں یہ کہہ دیاکہ یہ بینک پاگل ہو گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ناراضی کی وجہ فیڈرل ریزرو( فَیڈ) کی طرف سے کیا جانے والا مرکزی شرح سود میں اضافے کا فیصلہ تھا۔ مغربی دنیا کے تقریبا سبھی ممالک کے مرکزی مالیاتی اداروں کی طرح امریکا میں (فیڈ) بھی ایک خود مختار اور غیر جانبدار ادارہ ہے، جس کے فیصلوں میں واشنگٹن حکومت یا وائٹ ہاؤس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔فیڈرل ریزرو کے مرکزی شرح سود میں اضافے کے فیصلے پر دنیا کی سب سے بڑی معیشت والے ملک امریکا کے صدر نے جس عدم اطمینان کا اظہار کیا، اس پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی خاتون سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے یہ کہنے سے تو گریز کیا کہ صدر ٹرمپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ حصص کی عالمی منڈیوں میں اربوں ڈالر کے فائدے یا نقصان کی وجہ بالعموم لمحوں میں آنے والی تبدیلیاں بنتی ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے کی وجہ امریکی صدر ٹرمپ بنے اور ان کے صرف ایک جملے سے عالمی معیشت اربوں ڈالر سے محروم ہو گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس واقعے کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بنے، جب انہوں نے اپنے قطعی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے بارے میں یہ کہہ دیاکہ یہ بینک پاگل ہو گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ناراضی کی وجہ فیڈرل ریزرو( فَیڈ) کی طرف سے کیا جانے والا مرکزی شرح سود میں اضافے کا فیصلہ تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…