جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلادیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو قتل کرنے کا الزام ،سابق وزیر داخلہ،نائب وزیر تعلیم سمیت 19افراد کو سزائے موت ،خالدہ ضیاء کے بیٹے کو عمر قید، مجرمان کوپھانسی دینے کا طریقہ کار بھی جاری

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018 |

ڈھاکہ( آن لائن ) بنگلادیش کی عدالت نے 2004 میں عوامی لیگ کی ریلی پر حملوں کے جرم میں 2 سابق وزرا سمیت 19 افراد کو سزائے موت اور اپوزیشن رہنما اور خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان کو عمر قید کی سزا سنادی۔ڈھاکہ کی خصوصی عدالت نے موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد کو 2004 میں ریلی پر دستی بم حملے سے قتل کی کوشش کے مقدمے کی سماعت کی۔

اس موقع پر بنگلادیش نیشنل پارٹی کے رہنماؤں، کارکنان اور سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ خصوصی ٹریبونل نے بنگلادیش نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما و سابق وزیر داخلہ لطف الزمان بابر اور سابق نائب وزیر تعلیم عبدالسلام پنٹو سمیت 19 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا۔عدالت نے فیصلے میں لطف الزمان بابر اور عبدالسلام پنٹو کو حسینہ واجد کے قتل کا منصوبہ بنانے کا مجرم قرار دیا اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان کو عمر قید کی سزا کا حکم سنایا۔جسٹس شاہد نورالدین نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ‘مجرمان کو گردن میں پھندا ڈال کر لٹکایا جائے۔یاد رہے کہ طارق رحمان بنگلادیش نیشنل پارٹی کے قائم مقام چیئرمین ہیں جو 2008 سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں جب کہ ان کی والدہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کرپشن کیس میں ڈھاکہ جیل میں قید ہیں۔بنگلادیش کے وزیر قانون انیس الحق کا کہنا ہے کہ حکومت طارق رحمان کی بھی سزائے موت کے لیے اعلی عدالت سے رجوع کرے گی جب کہ لندن سے واپسی یقینی بنانے کے لیے سفارتی اقدامات کیے جائیں گے۔دوسری جانب بنگلادیش نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر رہنماؤں کو سزا سنائی گئی اور پارٹی اسے قبول نہیں کرتی جب کہ بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنما ؤں کے خلاف عدالتی فیصلہ ایک اور مثال ہے کہ عدلیہ کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔یاد رہے کہ 2004 میں عوامی لیگ اپوزیشن میں تھی اور حسینہ واجد کی ریلی پر دستی بم حملے کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…