ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

بنگلادیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو قتل کرنے کا الزام ،سابق وزیر داخلہ،نائب وزیر تعلیم سمیت 19افراد کو سزائے موت ،خالدہ ضیاء کے بیٹے کو عمر قید، مجرمان کوپھانسی دینے کا طریقہ کار بھی جاری

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018 |

ڈھاکہ( آن لائن ) بنگلادیش کی عدالت نے 2004 میں عوامی لیگ کی ریلی پر حملوں کے جرم میں 2 سابق وزرا سمیت 19 افراد کو سزائے موت اور اپوزیشن رہنما اور خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان کو عمر قید کی سزا سنادی۔ڈھاکہ کی خصوصی عدالت نے موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد کو 2004 میں ریلی پر دستی بم حملے سے قتل کی کوشش کے مقدمے کی سماعت کی۔

اس موقع پر بنگلادیش نیشنل پارٹی کے رہنماؤں، کارکنان اور سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ خصوصی ٹریبونل نے بنگلادیش نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما و سابق وزیر داخلہ لطف الزمان بابر اور سابق نائب وزیر تعلیم عبدالسلام پنٹو سمیت 19 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا۔عدالت نے فیصلے میں لطف الزمان بابر اور عبدالسلام پنٹو کو حسینہ واجد کے قتل کا منصوبہ بنانے کا مجرم قرار دیا اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان کو عمر قید کی سزا کا حکم سنایا۔جسٹس شاہد نورالدین نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ‘مجرمان کو گردن میں پھندا ڈال کر لٹکایا جائے۔یاد رہے کہ طارق رحمان بنگلادیش نیشنل پارٹی کے قائم مقام چیئرمین ہیں جو 2008 سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں جب کہ ان کی والدہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کرپشن کیس میں ڈھاکہ جیل میں قید ہیں۔بنگلادیش کے وزیر قانون انیس الحق کا کہنا ہے کہ حکومت طارق رحمان کی بھی سزائے موت کے لیے اعلی عدالت سے رجوع کرے گی جب کہ لندن سے واپسی یقینی بنانے کے لیے سفارتی اقدامات کیے جائیں گے۔دوسری جانب بنگلادیش نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر رہنماؤں کو سزا سنائی گئی اور پارٹی اسے قبول نہیں کرتی جب کہ بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنما ؤں کے خلاف عدالتی فیصلہ ایک اور مثال ہے کہ عدلیہ کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔یاد رہے کہ 2004 میں عوامی لیگ اپوزیشن میں تھی اور حسینہ واجد کی ریلی پر دستی بم حملے کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…