جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بنگلادیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو قتل کرنے کا الزام ،سابق وزیر داخلہ،نائب وزیر تعلیم سمیت 19افراد کو سزائے موت ،خالدہ ضیاء کے بیٹے کو عمر قید، مجرمان کوپھانسی دینے کا طریقہ کار بھی جاری

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈھاکہ( آن لائن ) بنگلادیش کی عدالت نے 2004 میں عوامی لیگ کی ریلی پر حملوں کے جرم میں 2 سابق وزرا سمیت 19 افراد کو سزائے موت اور اپوزیشن رہنما اور خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان کو عمر قید کی سزا سنادی۔ڈھاکہ کی خصوصی عدالت نے موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد کو 2004 میں ریلی پر دستی بم حملے سے قتل کی کوشش کے مقدمے کی سماعت کی۔

اس موقع پر بنگلادیش نیشنل پارٹی کے رہنماؤں، کارکنان اور سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ خصوصی ٹریبونل نے بنگلادیش نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما و سابق وزیر داخلہ لطف الزمان بابر اور سابق نائب وزیر تعلیم عبدالسلام پنٹو سمیت 19 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا۔عدالت نے فیصلے میں لطف الزمان بابر اور عبدالسلام پنٹو کو حسینہ واجد کے قتل کا منصوبہ بنانے کا مجرم قرار دیا اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان کو عمر قید کی سزا کا حکم سنایا۔جسٹس شاہد نورالدین نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ‘مجرمان کو گردن میں پھندا ڈال کر لٹکایا جائے۔یاد رہے کہ طارق رحمان بنگلادیش نیشنل پارٹی کے قائم مقام چیئرمین ہیں جو 2008 سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں جب کہ ان کی والدہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کرپشن کیس میں ڈھاکہ جیل میں قید ہیں۔بنگلادیش کے وزیر قانون انیس الحق کا کہنا ہے کہ حکومت طارق رحمان کی بھی سزائے موت کے لیے اعلی عدالت سے رجوع کرے گی جب کہ لندن سے واپسی یقینی بنانے کے لیے سفارتی اقدامات کیے جائیں گے۔دوسری جانب بنگلادیش نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر رہنماؤں کو سزا سنائی گئی اور پارٹی اسے قبول نہیں کرتی جب کہ بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنما ؤں کے خلاف عدالتی فیصلہ ایک اور مثال ہے کہ عدلیہ کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔یاد رہے کہ 2004 میں عوامی لیگ اپوزیشن میں تھی اور حسینہ واجد کی ریلی پر دستی بم حملے کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…