جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نومبر میں امن مذاکرات کی بحالی سے متعلق پْرامید

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

ابو ظبی(انٹرنیشنل ڈیسک)اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آیندہ ماہ نومبر میں جنگ زدہ ملک کے تمام فریقوں کے درمیان بحران کے حل کے لیے بات چیت بحال ہوجائے گی۔انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ یمن میں جاری انسانی بحران کو حل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس ملک کی معیشت کو

درپیش مسائل حل کیے جائیں۔انھوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس وقت بین الاقوامی ترجیح یمنی ریال کی قدر کو مزید گرنے سے بچانا ہے۔مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اس وقت یمنی ریال کی قدر کو مزید گرنے سے روکنے اور معاشی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک ہنگامی منصوبے پر غور کررہی ہے۔میرے ذہن میں تو اس حوالے سے کوئی شک نہیں کہ یہ اقتصادی مسئلہ اس وقت سب سے اولین ترجیح ہے۔ اقوام متحدہ میں ہم ایک ماسٹر پلان کی ضرورت کے حوالے سے گفتگو کررہے ہیں۔عالمی بنک ، عالمی مالیاتی فنڈ ، اقوام متحدہ کے تحت ایجنسیاں،خلیجی ممالک او ر یمنی حکومت سب مل بیٹھ کر فوری اقدامات پر بات چیت کرسکتے ہیں۔عالمی ایلچی کا کہنا تھاکہ سعودی عرب نے اسی ہفتے یمن کے مرکزی بنک کو 20 کروڑ ڈالرز امداد کی شکل میں دیے ہیں تاکہ یمنی ریال کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دیا جاسکے۔اس سے قبل اس نے یمنی بنک میں قریباً تین ارب ڈالرز کی رقم منتقل کی تھی۔تاہم مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ یمنی معیشت کی بحالی کے لیے مزید جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہم ہمیشہ سعودی عرب کی فراخدلانہ امداد پر انحصار کرسکتے ہیں اور نہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے کہ سعودی عرب ہی امداد کی شکل میں نظام میں رقوم ڈالے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…