جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایران اور حزب اللہ کو یمن پر تسلط جمانے کی اجازت نہیں دیں گے،سعودی وزیرخارجہ

datetime 27  ستمبر‬‮  2018 |

ریاض(انٹرنیشنل ڈیسک)سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ان کا مْلک ایران اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو یمن پر تسلط جمانے کی ہرگزاجازت نہیں دے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق مریکا میں امریکی خارجہ تعلقات کونسل میں ایک سیمینار سے خطاب میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اپنی جنوبی سرحد پر حزب اللہ اور ایران کے بڑھتے

اثرو نفوذ کو ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے حوثیوں پر یمن کے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کی کوششوں میں رخنہ ڈالنے اور عالمی ادارہ صحت کے قافلوں کو لوٹنے کا الزام عاید کیا۔ عادل الجبیر نے کہا کہ حوثیوں نے 17 معاہدے کئے مگر ان میں سے ایک معاہدے پر بھی عمل درآمد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے مسئلے کا فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل ہی زیادہ مناسب ہے۔ حوثیوں کو یمن میں سیاسی عمل میں حصہ لینے کا حق ہے مگرانہیں پورے یمن پر اپنا تسلط جمانے کا کوئی حق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی کا مقصد حوثیوں کو بات چیت پرمجبور کرنا ہے۔شام کے بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے الجبیر نے کہا کہ شام کی صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ کسی نئے انسانی المیے کے رونما ہونے سے قبل شام کی جنگ ختم کی جانی چاہیے۔شام میں روسی فوجی مداخلت نے زمینی صورت حال تبدیل کردی۔ سعودی عرب شام کے مسئلے کو جنیوا میں ہونے والی بات چیت کی روشنی میں حل کرنے کا خواہاں ہے۔ادل الجبیر نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات کی موجودگی کو من گھڑت پروپیگنڈہ قرار دیا اور کہا کہ صہیونی ریاست کے ساتھ ریاض کے کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان بحران کیخاتمے اور دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…