جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایتھوپیااوراریٹریا کے درمیان امن معاہدے سے پورے خطے میں امن ہوگا،سعودیہ

datetime 20  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا میں متعیّن سعود ی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر کی سکیورٹی ان کے ملک اور پورے خطے کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔عرب ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے شہزادہ خالد نے دو پڑوسی ممالک اریٹریا اور ایتھوپیا کے درمیان جدہ میں اسی ہفتے امن معاہدے پر دست خطوں کے بعد سعودی عرب کے خطے میں امن کے فروغ

کے لیے کردار کا ذکر کیا،اس معاہدے کے نتیجے میں ان دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ بیس سال سے جاری محاذ آرائی کا خاتمہ ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون امن کاری ، ترقی کا فروغ اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کی معاونت سے ایتھوپیا اور اریٹریا کے درمیان جدہ امن معاہدہ طے کرایا ہے،اس سے دونوں ملکوں کے درمیان بیس سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔اس سے پورے خطے میں سکیورٹی کو فروغ ملے گا اور استحکام آئے گا۔سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے مصالحتی کوششوں اور امن کے فروغ میں ہمیشہ صفِ اوّل کا قائدانہ کردار ادا کیا ہے جبکہ دوسرے ممالک تنازعات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر تقسیم کے بیج بوتے ہیں۔سعودی عرب نے گذشتہ کئی عشروں کے دورا ن میں کامیاب نتائج کی حامل مصالحتی کوششیں کی ہیں۔اس نے فلسطین ، لبنان ، افغانستان اور دوسرے علاقوں میں امن کے قیام کے لیے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے۔ا نکا کہناتھا کہ آبنائے باب المندب اور ہارن آف افریقا کی سکیورٹی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دنیا کی 15 فی صد بین الاقوامی تجارت ان ہی آبی راستوں سے ہوتی ہے۔ سعودی عرب خطے کو قزاقی اور ایران نواز ملیشیاؤں کی عدم استحکام کی کارروائیوں سے بچاؤ کے لیے کام کرتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…