جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

تارکین وطن جرمن لیبر مارکیٹ کا خلاء پر کرنے کیلئے پرعزم

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک)جرمنی میں مہاجرین اور تارکین وطن کی بڑی تعداد کی طرف سے ملازمتوں کے لیے تربیتی کورسز کی رجسٹریشن سے جرمن لیبر مارکیٹ کا خلاء پر ہونے کی توقع ہے۔ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کو ہنر مند افراد کی کمی کا سامنا ہے۔خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے وفاقی جرمن شماریاتی ادارے کے اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ برس

کے دوران ملازمتوں کے لیے تربیتی پروگراموں میں اندارج کروانے والے ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو جرمنی میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔2007ء کے دوران مہاجرین اور تارکین وطن افراد کی بڑی تعداد نے جرمن لیبر مارکیٹ کا حصہ بننے کے لیے درخواستیں دیں۔2016ء کے مقابلے میں گزشتہ برس اس تعداد میں 36.2 فیصد کا اضافہ نوٹ کیا گیا۔ جرمن حکام کے مطابق 2017ء میں ایسے نوجوان افراد کی تعداد پانچ لاکھ پندرہ ہزار سات سو رہی، جنہوں نے مختلف تربیتی پروگراموں میں شرکت کی۔ یہ امر اہم ہے کہ سن دو ہزار ایک کے بعد پہلی مرتبہ ان افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔وفاقی جرمن دفتر برائے محنت کی طرف سے گزشتہ ماہ جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں جرمنی میں خالی ملازمتوں کی تعداد آٹھ لاکھ بائیس ہزار سے زائد تھی۔ جون میں یہ تعداد آٹھ لاکھ پانچ ہزار سے زائد تھی جبکہ جولائی 2007ء میں تقریبا ساڑھے سات لاکھ سے زائد تھی۔بتایا گیا ہے کہ شام اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان تارکین وطن افراد کی طرف سے تربیتی پروگراموں میں اندراج کی خاطر سب سے زیادہ درخواستیں جمع کرائی گئیں۔شام اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے تقریبا دس ہزار ایسے نوجوان تارکین وطن افراد نے 2017ء مختلف تربیتی پروگراموں میں شرکت کی، جو2016ء کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ تعداد بنتی ہے۔ سن دو ہزار سولہ میں ایسے پروگراموں میں شرکت کرنے والے شامی اور افغان نوجوانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔2017ء کے دوران سات سو بیس شامی اور افغان خواتین نے ان پروگراموں میں شرکت کی، جو اس سے ایک سال قبل کی تعداد سے تین سو زائد رہی۔ گزشتہ برس تربیتی پروگراموں میں شرکت کرنے والے مردوں کی تعداد میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا ۔

تاہم اس ضمن میں خواتین کی شرکت میں 2.9 فیصد کی کمی ہوئی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ہنر مند تارکین وطن اور مہاجرین لیبر مارکیٹ میں پایا جانے والا خلاء پر کر سکتے ہیں۔ اسی مقصد کی خاطر جرمن حکومت امیگریشن کے حوالے سے ایک ایسی قانون سازی پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت خدمات اور صحت کے شعبے کے ساتھ ساتھ دیگر سیکٹرز میں بھی ملازمتوں کے خلاء کو پر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…