منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی پروپیگنڈے کا ڈراپ سین،ملائیشیا نے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملک بدر کرنے سے سے متعلق بھارت کو دوٹوک جواب دے دیا

datetime 6  جولائی  2018 |

کوالا لمپور(نیوز ڈیسک) ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھارت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملک بدر کرنے سے انکارکردیا ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے بھارتی حکومت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے معروف اسلامی اسکالر

اور بھارت میں اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ڈی پورٹ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر بھارت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت کئی مقدمات درج ہیں۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیکچرز سے متاثر ہو کر بھارت میں ہزاروں ہندوؤں نے اسلام قبول کیا جب کہ وہ انگریزی، اردو اور دیگر زبانوں میں ایک ٹی وی چینل بھی چلاتے ہیں جسے دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے۔نومبر 2016 میں ڈھاکا میں ایک ہوٹل پر ہونے والے حملے میں 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے ٗ گرفتار حملہ آوروں کا اپنے اقبالی بیان میں کہنا تھا کہ وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تعلیمات سے متاثر تھے۔بنگلا دیش میں حملہ آور کے اقبالی بیان کے بعد بھارت کے تحقیقاتی ادارے این آئی اے (نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ) نے بھارت میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف مقدمات درج کیے جس کے بعد وہ بھارت چھوڑ کر پہلے سعودی عرب اور پھر ملائیشیا منتقل ہوگئے تھے جہاں انہیں شہریت دے کر مستقل رہائش کی اجازت دے دی گئی تھی۔بھارتی حکومت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی حوالگی کیلئے ملائیشیا کی حکومت سے رابطہ کیا تھا تاہم وزیراعظم مہاتیر محمد نے مودی انتظامیہ کے مطالبے کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملائیشیا میں مستقل رہائش دی چا چکی ہے اور بطور شہری ہونے کے جب تک وہ اس سرزمین پر کسی غیر قانونی کام یا جرم کے مرتکب نہیں ہوتے تب تک انہیں سزا یا ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…