منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مردہ خانے کے فریج میں رکھی گئی لاش اچانک زندہ ہو گئی ،آخر ماجرہ کیا ہے؟جان کر آ پ بھی حیرت میں ڈوب جائینگے

datetime 3  جولائی  2018 |

کیپ ٹاؤن(مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی افریقہ میں ڈاکٹروں کی جانب سے مردہ قرار دیے جانے کے بعد مردہ خانے کے فریج سے رکھی گئی لاش اچانک زندہ ہو گئی۔ مردے خانے کے فریج میں زندہ پائی گئی خاتون ہسپتال میں زیر علاج ہے،جنوبی افریقہ کے علاقے گوتینگ میں کار حادثے کے بعد ایک عورت کو جب ہسپتال لایا گیا تو طبی عملے نے انھیں مردہ قرار دیا تھا۔جس کے بعد خاتون کی لاش کو مردہ خانے کے ایک فریج میں رکھ دیا گیا تھا۔

جنوبی افریقہ کی ٹائمز لائیو ویب سائٹ کے مطابق طبی عملے کا کہنا تھا کہ خاتون میں زندگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔جب مردہ خانے کا ایک ملازم لاش کو دیکھنے آیا تو اس نے دیکھا کہ سانسیں چل رہی ہیں۔ایک افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جوہانسبرگ کے ہسپتال میں اب وہی خاتون زیر علاج ہیں۔ مردہ قرار دی گئی خاتون کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔خاتون کے اہلخانے نے ہسپتال سے جواب طلب کیا ہے اور اب معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔خاتون کے اہلخانہ نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ گہرے صدمے میں ہیں اور جب تک پولیس، طبی عملہ اور مردہ خانے کا عملہ وہاں موجود نہیں ہوتا وہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں کچھ سوالوں کے جواب لینے ہیں۔ڈسٹریس الرٹ آپریشن مینیجر گیرِٹ بریڈنک کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کے کسی عملے کی جانب سے غیر ذمہ داری کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ خاتون ان افراد میں شامل تھیں جو 24 جون کو ایک کار حادثے کا شکار ہوئے تھے اور اس حادثے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔رواں سال مردہ قرار دیے جانے کے بعد کسی شخص کا دوبارہ زندہ ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔جنوری میں سپین کی جیل کا ایک قیدی پوسٹ مارٹم سے کچھ ہی دیر پہلے اٹھ کر بیٹھ گیا تھا جبکہ تین ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے چکے تھے۔

جنوبی افریقہ میں بھی ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔ سات سال پہلے کیپ ٹائون کے مردہ خانے میں ایک 50 سالہ شخص چیختا ہوا اٹھ بیٹھا تھا۔اس سے قبل 2016 میں ایک اور سڑک حادثے کے شکار شخص کو مردہ قرار دیا گیا تھا اگلے ہی روز اس کی سانسیں چلنے لگی تھیں لیکن اس کے پانچ گھنے بعد اس شخص کی موت واقع ہو گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…