جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

ایران میں شوبز سے وابستہ معروف شخصیات نے حسن روحانی کی دعوت افطار ٹھکرا دی، ایسا کیوں کیا گیا؟ حیرت انگیز موقف سامنے آ گیا

datetime 31  مئی‬‮  2018 |

تہران(آئی این پی) ایران کی شو بز سے وابستہ معروف شخصیات نے اپنے صدر حسن روحانی کی دعوت افطار ٹھکرا دی، فنکاروں کا موقف ہے کہ ملک میں مہنگائی اور ابتر معاشی حالات کے خلاف بہ طور احتجاج ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں شوبز سے وابستہ شخصیات، فن کاروں اور دیگر مشاہیر نے صدر حسن روحانی کی جانب سے افطار ڈنر کی دعوت مسترد کردی ہے۔فن کاروں کی جانب سے صدر روحانی کی جانب سے دی گئی افطاری میں شرکت سے

یہ کہہ کر انکار کردیاکہ وہ ملک میں مہنگائی اور ابتر معاشی حالات کے خلاف بہ طور احتجاج ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق صدر حسن روحانی کی طرف سیشوبز کی کئی اہم شخصیات کو افطار پارٹی میں مدعو کیا گیا تھا مگر ان میں سے آناھیتا ھمتی، مہناز افشار، پرویز پروستوئی، خداداد ، پروز ارجمند، احسان کرمی اور فلو نظری نے صدر کی دعوت افطار مسترد کردی۔روحانی کی دعوت افطار میں شرکت سے سب سے پہلے اعلانیہ انکار آناھیتا ہمتی نے انسٹا گرام پر دعوت نامہ پوسٹ کرنے سے کیا۔انہوں نے لکھا کہ ملک میں معاشی ابتری کا یہ عالم ہے کہ لوگوں کے پاس افطاری کو کچھ نہیں۔انہوں نے لکھا کہ میں ٹی وی چینل سے اس لیے دور ہوں کیونکہ چینل عوام کے حقیقی مسائل پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔انہوں نے صدر حسن روحانی کے نام اپنے کھلے خط میں ملک میں غربت میں مسلسل اضافے، احتجاجی تحریکوں کو طاقت سے کچلنے اور شوبز پرعاید کردہ آہنی پابندیوں پر سخت احتجاج کیا۔ادھر صدر حسن روحانی کی دعوت افطار ٹھکرانے والی ایک دوسری فن کارہ مہناز افشار نے کہا کہ ملک میں بچوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کارکن اثینا دائمی کو بھی شریک کرانے کامطالبہ کیا اور کہا دائمی حکومت کے خلاف سازش اور قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کی پاداش میں مسلسل سات سال سے جیلوں میں قید ہیں۔ جس ملک میں بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو قید وبند کی صعوبتوں میں ڈالا جاتا ہو وہاں صدر مملکت کو افطار پارٹیوں کے انعقاد کے بجائے قوم کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…