ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

مسلمان نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے پولیس اہلکارکو جان سے مارنے کی دھمکیاں، پولیس اہلکار کا ایسا بیان جسے جان کر آپ بھی اسے داد دیے بغیر نہیں رہ پائیں گے

datetime 31  مئی‬‮  2018 |

نئی دہلی(آن لائن)بھارتی انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمان نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے پولیس اہلکار جگن دیپ سنگھ کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک مسلمان نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے پولیس اہلکار جگندیپ سنگھ کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس نوجوان پولیس اہلکار کی تحسین کی جارہی تھی کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملنے لگیں۔

شمالی ریاست اتراکھنڈ کے پولیس ایہلکار جگندیپ سنگھ کی یہ ویڈیو گذشتہ ہفتے انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی۔حملے کا شکار ہونے والا شخص اپنی ہندو گرل فرینڈ کے ساتھ مندر آیا تھا۔ہندوں کے مجمع نے اس گھیر لیا اور اس پر لو جہاد کا الزام لگا کر اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔یہ اصطلاح بنیاد پرست ہندوں نے تخلیق کی ہے جس میں ان کے مطابق مسلمان مرد عورتوں کو رجھا کر مسلمان کر رہے ہیں۔ویڈیو کے انٹرنیٹ پر شیئر ہونے پر بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ جگندیپ تمام انڈینز کے لیے مثال ہیں اور یہ خبر انڈیا کے تمام بڑے اخباروں میں چھپی۔جگندیپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا میں صرف اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ اگر میں وردی میں نہ بھی ہوتا تو بھی میں ایسا ہی کرتا اور ہر انڈین کو یہی کرنا چاہیے۔تاہم زیادہ دیر نہیں لگی جب لوگوں نے ان پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ وہ غیر مہذب عمل کا دفاع کر رہے تھے۔ان کے ساتھ کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں اس لیے انھیں رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے راکیش نینوال نے کہا کہ یہ غلط ہے جب یہ مسلمان ہندو لڑکیوں کو لے کر ہماری عبادت کی جگہ پر آتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ مندر ہے اور یہ پاک ہے۔بے جے پی کے ایک دوسرے ایم ایل اے راج کمار ٹھکرال نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ اس شخص کی جانب سے ہندو برادری کے

جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ایک کوشش تھی۔ان کا مزید کہنا تھا ہم مسجد میں نہیں جاتے کیونکہ ہمیں وہاں جانے کا حق نہیں۔ پھر یہ لوگ ہندو تہذیب کو تباہ کرنے کے لیے مندر میں کیوں آتے ہیں۔تاہم رام نگر ضلع کے لوگوں کا، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، خیال ہے کہ یہ سب بہت پریشان کن ہے۔ایک مقامی شخص کاجیت سہانی کا کہنا تھا جو ایک لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے کہیں جاتے ہیں تو یہ دائیں بازو کے لوگ اسے لوجہاد کیسے کہہ سکتے ہیں اور حملہ کیسے کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…