جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سب جانتے ہیں، خالد بن سلمان

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور سے خادم حرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک مسئلہ فلسطین 70 برسوں سے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں مرکزی معاملہ رہا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ تمام تر دباؤ کے باجود فلسطین مرکزی معاملہ ہی رہے گا ۔

اور سیاسی نشیب و فراز سے متاثر نہیں ہو گا۔سعودی سفیر نے کہا کہ مملکت فلسطینی عوام کو ان کے قانونی حقوق دلانے کی کوشش میں تمام عرب اور اسلامی ممالک کی صف میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی بھائیوں کی سپورٹ کوئی احسان نہیں بلکہ یہ ایک اعزاز اور فریضہ ہے کیوں کہ اس سرزمین پر مسلمانوں کا قبلہ اوّل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے سفر کا اہم مقام واقع ہے۔شہزادہ خالد بن سلمان کے مطابق سعودی عرب نے فلسطینی بھائیوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ اندرونی سطح پر انہیں روزگار، تعلیم اور علاج کے مواقع فراہم کیے جب کہ بیرونی سطح پر ان کی مالی سپورٹ کی۔ مملکت نے فلسطینی سامان اور مصنوعات کی درآمد کے لیے کسٹم ڈیوٹی کی ضمانت لی اور فلسطینی اتھارٹی کے سالانہ بجٹ کے ایک بڑے حصّے کو پورا کیا۔سعودی سفیر نے بتایا کہ مملکت نے مسجد اقصیٰ کے تشخص کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ اس مقصد کے لیے کئی متعلقہ تنظیموں اور فنڈز کو سپورٹ کیا۔شہزادہ خالد کے مطابق مملکت سعودی عرب خادم حرمین شریفین اور ولی عہد کی قیادت میں دنیا میں ہر جگہ عالم اسلام اور عرب دنیا کے مسائل میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی جن میں سرفہرست مسئلہ فلسطین ہے۔سعودی سفیر نے اپنی ٹوئیٹس کے اختتام پر باور کرایا کہ فلسطین میں قابض حکام کے خلاف مزاحمت کار کے طور پر معروف افراد کے لیے روا نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں اور اسے سپورٹ کریں۔ ایسے وقت میں جب کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایرانی نظام عرب دارالحکومتوں پر قبضے کے لیے کوشاں ہے اور وہاں قتل عام اور خون ریزی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…