جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

جرمنی میں مہاجرین کو روزگار کی فراہمی، اقوام متحدہ بھی کوشاں،تجاویز پیش کردیں

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں مقیم مہاجرین کے لیے روزگار کی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم او ای سی ڈی نے تجاویز پیش کی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (یو این ایچ سی آر) اور اقتصادی تعاون و ترقی کے یورپی ادارے (او ای سی ڈی) نے جرمنی میں مہاجرین کو روزگار فراہم کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی ہیں۔

ان بین الاقوامی اداروں کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو روزگار کے حصول میں درپیش مسائل حل کرنے کے لیے جرمن زبان سکھانے کے بہتر انتظام کے علاوہ جرمن آجروں کو بھی زیادہ لچک دکھانا چاہیے۔یہ تجاویز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جرمن شاخ سے تعلق رکھنے والے ڈومینیک بارش نے جرمن دارالحکومت نے برلن میں ایک تحقیقی جائزے پر مبنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے پیش کی ہیں۔اس موقع پر جرمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندے اسٹیفان ہارڈیگے کا کہنا تھا کہ جرمنی میں تارکین وطن کو یہ سہولت بھی مہیا کی جانا چاہیے کہ وہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ جرمن زبان کے خصوصی کورسز کر سکیں۔ ہارڈیگے نے تاہم یہ اعتراف بھی کیا کہ مہاجرین کو روزگار فراہم کرنے کے لیے جرمن اداروں کو بھی زیادہ لچک دکھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمن آجروں کے لیے مہاجرین کو ملازمت پر رکھنے کی راہ میں ایک بڑی پریشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ مہاجر کو وطن واپس بھیج دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں انہیں اضافی انتظامی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔اس دوران اقتصادی تعاون و ترقی کے یورپی ادارے (او ای سی ڈی) کے مہاجرین کے امور سے متعلق سینیئر اہلکار تھوماس لائبش کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو ملازمتیں دینے والی کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ وہ انہیں روزگار فراہم کر کے اچھا کام کر رہے ہیں لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ تارکین وطن اپنے جذبے کے باعث بہت اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں جس کی وجہ سے کمپنیوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…