منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

روزہ رکھنے والے مسلمان معاشرے کیلئے سکیورٹی رسک ،رمضان کے دوران کام سے چھٹی لیں ،ڈنمارک کے وزیر کے بیان سے مسلمانوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی

datetime 23  مئی‬‮  2018 |

کوپن ہیگن(این این آئی) ڈنمارک کی وزیر برائے امیگریشن (تارکینِ وطن) کی جانب سے دیئے گئے ایک بیان کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ رمضان کے دوران مسلمان کام سے چھٹی لیں کیونکہ اس سے معاشرے کے تحفظ اور سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی سخت امیگریشن پالیسیوں کے باعث مشہور خاتون وزیر انگر اسٹوج برگ نے کام کے دوران روزہ رکھنے

والے مسلمانوں کو معاشرے کے لیے ایک سیکیورٹی رسک قرار دیا بالخصوص انہوں نے بس ڈرائیور اور طبی شعبے سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا۔ خاتون وزیر نے کہا کہ کام کے دن روزہ رکھنا جدید سوسائٹی کے لیے ایک چیلنج ہے، ڈرائیور اور اسپتال میں کام کرنے والے روزے دار معاشرے کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔وزیر تارکین وطن نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈنمارک میں موجود مسلمان رمضان میں روزہ رکھتے ہیں اور 18 گھنٹے تک کچھ کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں، اس دوران مسلمان افراد مختلف خطرناک مشینیں بھی ا?پریٹ کرتے ہیں جیسا کہ بس ڈرائیور ہیں جو بغیر کچھ کھائے پیے بسیں چلاتے ہیں اور ان کا یہ عمل ہمارے تحفظ کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔خاتون وزیر نے مزید کہا کہ میں ڈنمارک میں موجود تمام مسلمان باشندوں سے کہتی ہوں کہ وہ رمضان کے دوران اپنے کاموں سے چھٹیاں لیں تاکہ ہماری سوسائٹی منفی اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ڈنمارک کی تھری ایف ٹرانسپورٹ یونین نے خاتون وزیر کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسا مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں جو ابھی تک موجود ہی نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…