منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں ہزاروں افراد کی مقدمات کے بغیر جبری حراست ظلم ہے،ہیومین رائٹس واچ کی تنقید

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی) انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سعودی عرب کے طاقتور ترین ولی عہد محمد بن سلمان پر سخت تنفید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہزاروں افراد کو سالوں سے مقدمات کے اندراج کے بغیر ہی قید کر رکھا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابقاس سلسلے ہیومن رائٹس واچ نے وزارت داخلہ سے حاصل سرکاری اعداد وشمار کا جائزہ لیا اور بتایا کہ 2 ہزار 3 سو 5 افراد

بغیر کسی عدالتی کارروائی کے 6 ماہ سے زائد عرصے سے قید ہیں۔جبکہ ایک ہزار 8 سو 7 افراد ایک سال سے زائد عرصے سے اور 2 سو 51 افراد 3 سال سے زائد عرصے سے قید ہیں اور اب بھی ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شخص 10 سال سے قید ہے جو بظاہر جبری حراست کا کیس ہے۔واضح رہے کہ جون 2017 میں محمد بن سلمان کے ولی عہد نامزد ہونے کے بعد سے ان کی قیادت میں انتہائی قدامت پسند سمجھا جانے والا ملک سعودی عرب تبدیلیوں اور اصلاحات کے دور سے گزر رہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو جبری طور پر قید نہ رکھا جائے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ سالوں میں جبری حراستوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔نیویارک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے گروپ کی مشرق وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارا لیہہ وہٹسن کا کہنا تھا کہ اگر سعودی حکام بغیر کسی الزام کے لوگوں کو اسی طرح مہینوں قید رکھ سکتے ہیں تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ سعودی عدالتی نظام اب موثر نہیں رہا۔ان کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کا وڑن 2030 بڑے پیمانے پر اصلاحات کے بجائے بغیر کسی الزام کے لوگوں کو لمبے عرصے تک قید رکھنے کے حوالے سے ہے۔اس منصوبے میں تیل کی سب سے بڑی پیداواری کمپنی آرامکو کی جزوی نجکاری اور ملازمتوں میں خواتین کی تعداد بڑھانا بھی شامل ہے، جبکہ رواں سال جون سے سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی مل جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…