جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں ہزاروں افراد کی مقدمات کے بغیر جبری حراست ظلم ہے،ہیومین رائٹس واچ کی تنقید

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی) انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سعودی عرب کے طاقتور ترین ولی عہد محمد بن سلمان پر سخت تنفید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہزاروں افراد کو سالوں سے مقدمات کے اندراج کے بغیر ہی قید کر رکھا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابقاس سلسلے ہیومن رائٹس واچ نے وزارت داخلہ سے حاصل سرکاری اعداد وشمار کا جائزہ لیا اور بتایا کہ 2 ہزار 3 سو 5 افراد

بغیر کسی عدالتی کارروائی کے 6 ماہ سے زائد عرصے سے قید ہیں۔جبکہ ایک ہزار 8 سو 7 افراد ایک سال سے زائد عرصے سے اور 2 سو 51 افراد 3 سال سے زائد عرصے سے قید ہیں اور اب بھی ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شخص 10 سال سے قید ہے جو بظاہر جبری حراست کا کیس ہے۔واضح رہے کہ جون 2017 میں محمد بن سلمان کے ولی عہد نامزد ہونے کے بعد سے ان کی قیادت میں انتہائی قدامت پسند سمجھا جانے والا ملک سعودی عرب تبدیلیوں اور اصلاحات کے دور سے گزر رہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو جبری طور پر قید نہ رکھا جائے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ سالوں میں جبری حراستوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔نیویارک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے گروپ کی مشرق وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارا لیہہ وہٹسن کا کہنا تھا کہ اگر سعودی حکام بغیر کسی الزام کے لوگوں کو اسی طرح مہینوں قید رکھ سکتے ہیں تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ سعودی عدالتی نظام اب موثر نہیں رہا۔ان کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کا وڑن 2030 بڑے پیمانے پر اصلاحات کے بجائے بغیر کسی الزام کے لوگوں کو لمبے عرصے تک قید رکھنے کے حوالے سے ہے۔اس منصوبے میں تیل کی سب سے بڑی پیداواری کمپنی آرامکو کی جزوی نجکاری اور ملازمتوں میں خواتین کی تعداد بڑھانا بھی شامل ہے، جبکہ رواں سال جون سے سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی مل جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…